KRAJIN
CROATIA
Velika Madosa
Dvor
SAFE AREA
CROATIA
Bosanska Krupa
BOSNIA AND Bihac HERZEGOVINA
Mem
consmolled
Sed-coxstnilet
Baung
Croatia
Serb commolec
یہ شمارہ اس قابل ہے کہ اسے آغاز تا انتقام سطر سطر پڑھا جائے عمر بعض مضامین ایسے ہیں جنہیں بار بار پڑھنا ضروری ہے ان مضامین کے مطالعے سے عصری تاریخ کے پیدا کردہ بہت سے مصائب اور مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے انہیں پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر ملک کی تاریخ اس تختم کے تجربات ، مشکلات اور تضادات سے پر ہے اور دنیا کے ہر خطرے میں جاری آگ اور لہو کی کشمکش میں مصروف عناصر کے روسے یکساں نوعیت کے ہیں۔
سر یا جنگ کے راستے پر ” “بونیا کی تباہی” امید کا روشن مینار ایک دوربین میں فسر کا مرقع ” گرب خزاں ” جھوٹ کا کلچر جسم کا ایک موسم ، سرائیو کی محصور عورتیں، شہر اور موت دو کوور کی تباہی سرائیو کا سفر سرا ئیو کا نوحہ غضب کے مضامین ہیں۔
مضامین کے ترجم نگاروں میں اہم لوگوں کے نام ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کمال کے ترجمے اجمل کمال کے قلم سے نکلے میں ان ترجموں میں ایسی بے ساختگی روانی طغیانی آتش بیانی اور بھائے جانے کی طاقت ہے جو بہت کم مترجموں کو حاصل ہوتی ۔ ہوتی ہے ان متراجم میں بعض نثر پارے خدمات نگاری اور حقیقت اس کا عجیب و غریب امتزاج ہیں جنہیں بڑھتے ہوئے کبھی آنسو نکل آتے ہیں کبھی آہیں اٹھنے لگتی ہیں کبھی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں کبھی سسکیاں بلند ہوتی ہیں اور اور کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بوسنیا کی گلیوں میں خود چل رہے ہیں اور موت ہمارا تعاقب کر رہی ہے اور دل کی دھڑکن بند ہونے گئی ہے تنویر انجم کا ترجمہ بھی بہت عمدہ ہے مگر اسد محمد خان محمد خالد اختر محمد سلیم الرحمان کے ترجموں میں مشکل الفاظ کی کثرت اور انگریزی لفظوں کی بھر مار نے ترجمے کا لطف کر کرا کر دیا ہے اجمل کمال کے ترجموں میں کہا کمال کے ترجموں میں کہیں کہیں انگریزی کے لفظ استعمال کئے گئے ہیں جبکہ ان لفظوں کے متبادل خوبصورت لفظ دستیاب ہوسکتے تھے مگر شاید اجمل کمال کے پیش نظر ایک زبان کو دوسرے زبان میں پیوست کرنے کا تجربہ ہے۔
آج کا خصوصی شمارہ ہر کتب خانے کی زیبت بننا چاہئے اس شمارے کی وسیع پیمانے پر اشاعت کے لئے ضروری ہے کہ احباب اسے اپنے تحائف کا حصہ بنالیں اس کے اہم مضامین کتابچوں کی شکل میں شائع کر کے تقسیم کئے جائیں اس پر مجالس مذاکرہ منعقد کی جائیں اور اس رسالے میں اٹھائے مجھے اہم نکات پر تنقید اور بحث کے ذریعے اس کے پیغام کو عام کیا جائے اگر اجمل کمال کوئی اور کام نہ کرے تب بھی یہ دستاویز نہیں اصل کمال کوئی اور کام نہ کرے تب بھی یہ دستاویز ہیں تاریخ اردو ادب اور ترجمے کی تاریخ میں زندہ رکھنے کے لئے کافی ثابت ہوگی۔
ہاہا کہ “ساحل، کراچی اپریل ۱۹۹۵ ع
آج کا خصوصی شماره
اجمل کمال کا کمال
بوسنیا کی تاریخی اور جذبوں سے
محمد اشرف لودھی
زندگی ہوئی دستاویز
بونیا میں جاری خونریزی ابلاغیات کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے اور عالم اسلام کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو گا کہ اس خونریز جنگ کا آغاز کیوں ہوا؟ تحرکات کیا تھے، وجوہات کیا تھیں ؟ اس جنگ کے فرق کون ہیں یہ جنگ کسی پر مسلط کی گئی ہے اور مدافعت کرنے والی قو تیں کون کون سی ہیں؟
مثالی نہیں ہے اور اگر کہیں مثالی معاشرے پائے جاتے ہیں تو وہ دراصل خیالی معاشرے ہیں آج کے معاشروں میں مقیم لوگ : بچے ہیں نہ مخلص ہیں نہ حق کے طرفدار ہیں ہر شخص اپنے افکار و نظریات کے ہاتھوں مغلوب بلکہ مصلوب ہے لیکن اجمل کمال نے ہمیں پہلی مرتبہ اس راز سے آشنا کیا کہ بوسنیا کا معاشرہ دنیا کا مثالی ترین معاشرہ تھا جہاں مذاہب، نسلیں، گروہ، مختلف زبانیں باہم شیر دل تھے اور کونوں کی جانب سے یہائی بنیاد سے عیسائی بنیاد پرستی کے نام پر مسلمانوں پر جمہ پرستی کے نام پر مسلمانوں پر جملہ صرف ایک جرم ہے عمرہ اس حملے کا اصل مقہ حملے کا اصل مقصد بوسنیا کے اس مثالی معاشرے کو تباہ و برباد کرنا اور سنا دینا ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگ محبت کے ساتھ رہ رہے تھے اور دنیا کو ایسے معاشروں کی تشکیل و ترتیب کی دعوت دے سکتے تھے۔
ہماری پوری عصری تاریخ ابلاغیات کے گورکھ دھندوں میں کم سے جدا بونیای تاریخ بھی تعصب کی عینک سے پیش کی گئی اور عام خیال میں ہے کہ یہاں مشرق و مغرب معرکہ آراء ب معرکہ آراء میں اسلام اور اور کفر کی جنگ برپا ہے اور کفر اسلام پر غالب آنے کے لئے خون کے سمندر بہا رہا ہے انتہا یہ ہے کہ اقبال احمد ہے کہ اقبال احمد جیسے محقق بھی اس جنگ کو مشرق و مغرب کی صلیبی جنگ کا ایک پر تو سمجھ رہے ہیں اقوام متحدہ ایک وفات نامہ اسی نقطہ نظر کا اظہار ہے۔
اس دستاویز کی تیاری میں اجمل کمال نے ہزاروں صفحات کا مطالعہ کیا اور پھر ۵۰۰ صفحات منتخب کر کے انہیں رواں دواں خلفتہ اور برجستہ اردو میں منتقل کرکے تراجم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے اس دستاویز میں تاریخ تحقیق ادب افسانے کہانیاں، صحافت سماجیات، نفسیات شریات اور خدا جانے کون کون سے علوم پہلو بہ پہلو چلتے ہیں اور ایک کوچے چے سے سے دوسرے کوچے میں داخل ہوتے وقت اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوتا بوسنیا کی تاریخ بڑھتے بڑھتے آپ کو نیا کا مرضیہ پرھنے کے لئے “سراو نیو کا نوحہ ” کے لئے سراو نیو کا نوحہ پڑھنے لگیں تو آپ کو موڈ بدلنے کی ز بدلنے کی ضرورت نہیں ہوگی جذبات کا سفر خط منظم پر جاری رہے گا ہیں اس تاریخی مترجم دستاویزہ کا کمال ہے۔
اس شمارے کا قلب اجمل کمال کے قلم سے لکھا گیا ؟ صفحات پر مشتمل وہ تعارف ت پر مشتمل وہ تعارف ہے جس میں اجمل کمال نے تاریخ میں رہنے پیدا کرنے والے تمام عناصر، تمام قوتوں اور تمام در تمام طریقوں کو اس سادگی پر کاری اور بے باکی سے نما بے باکی سے نمایاں کر دیا ہے گئے ؟ دیا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد مسخ شدہ تاریخ کا سراغ مل جاتا ہے اور ہی اور کو میں اپنے یار کی اک یا کانال یا اے اللہ محسوس ہوں ہوتا ہے کہ انہوں نے ہوشیا کا نوحہ نہیں لکھا بلکہ کراچی کا نوحہ لکھا ۔ کراچی کا نوحہ لکھا ہے اور اس شمارے کا پیغام اہل پاکستان کے لئے ہے کہ تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو پھر منا دیئے جاؤ کے صفحات پر مشتمل یہ تعارف اس دستاویز کی روح ہے عطر ہے جس میں پانچ سو چھیں صفحات کو کشید کر کے رکھ دیا گیا ہے یہ صفحات اس قابل ہیں کہ بار بار پڑھے جائیں بلکہ ان صفحات کو الگ کتابچے کی شکل میں شائع کر کے ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کرتے کیا جائے تاکہ اس سوئی ہوئی قوم کی آنکھیں کھل جائیں جو سیاستدانوں کی تخلیق کردہ تاریخی بھول بھلیوں میں کم ہے اور روزانہ اپنی شناخت کے لئے نئے نئے لبادے تراش رہی ہے۔
بونیا کے بارے میں یہ تاریخی غلط فہمیاں ان بنیاد پرست حلقوں اور قوم پرست مسلمانوں کی پھیلائی ہوئی ہیں جو امت مسلمہ کو جہاد کے نام پر دنیا بھر میں معرکہ زن دیکھنا چاہتے ہیں لیکن خواہشات اور تاریخی حقائق یکجان نہیں ہو سکتے اجمل کمال نے عصری کی تاریخ کے سب سے خو خونیں باب کو تاریخ کے میچ ناظر میں محسوس کیا اور عام آدمی سے لے کر مفکرین و لے محققین کو اس حول رنگ تاریخ کے حقیقی مناظر تاریخ و تحقیق تحقیق کے پس منظر سے دکھانے کی ایک ایسی جرات مندانہ عظیم الشان اور ولولہ انگیز کوشش کی ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ” آج کا خصوصی شمارہ ” ” سرا نیو سرائیود ” ۵۳۶ صفحات پر مشتمل ہے اور اردو ادب کی تاریخ میں کسی تاریخی اور تحقیقی موضوع پر اتنا خوبصورت جامع دلکش و کش دلچپ انکھیں کھولنے، ذہن کے دریچے وا کرنے جذبوں کی جوت نے اور تاریخ سے آگہی بخشنے والا کوئی ادبی رسالہ ہماری نظا بی رسالہ ہماری نظر نہیں گزرا اجمل کمال کی یہ کوشش ان کے محنت اور چگانے سے میں کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے ؟ ساتھ ساتھ ان کے جدیات احساسات کی بھر پور ترجمان ہے یہ ایک دستاویز ہے جو بتاتی ہے کہ جنگ کتنی خبیث یا ہے کہ جنگ کتنی خبیث شیطان اور ظالم شے ہے اور اگر یہ تحریریں پڑھ کر بھی تم نہ جائے تو پھر بیشہ کی نیند سلا دیئے جاؤ گے اس دستاویز میں اجمل کمال نے بوسنیا کی خون رنگ گلیوں سے محبت کے عجیب و غریب نظارے منتخب کر کے دکھائے ہیں ان تحریروں کو پڑھ کر یقین آجاتا ہے کہ قیامت ابھی دور ہے کیونکہ قرب قیامت کی اہم ترین نشانی یہ ہے کہ اہل دنیا سے محبت اٹھائی جائے گی لیکن
بوسنیا کے گلی کوچوں میں محبت کا رقص جاری ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عصری معاشروں میں کوئی معاشرہ |
29