THE DAILY JANG KARACHI, FRIDAY NOVEMBER 29, 1996
نقد و نظر
شدن عين
*
تبصرے کے لیے کتابوں کی دو جلدوں کا آنا ضروری ہے (ادارہ)
زبانی بیان کی گئی ہے۔ کسی شہر کی کمائی کوئی ایک شخص کی کمر بیان کر سکتا ہے۔ ؟ ان میں سے ہر ایک راوی اس شر کے بارے میں اپنا ذاتی تصور اور تجربہ رکھتا ہے جو تعجب کی بات نہیں کیونکہ شہر کی تصویر اپنی انفرادی تصورات اور تجربات سے مل کر بنتی ہے ” ۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ
شر کی صورت حال کی یہ تصویر میں ایک دوسرے اس درجہ مختلف بعض اوقات متضاد ہیں کہ ان میں کسی ایک پر انحصار کر کے کراچی کے حالات کو سمجھتا ممکن نہیں رہا۔ کراچی میں کیا ہو رہا ہے۔ ؟ اس سوال کا جواب پانے کے لئے ہم نے اس نقطے سے آغاز کرنے کا کیا کہ یہ شر کیا ہے اور یہاں اس سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ کراچی کے بارے میں عام طور پر جو کتابیں لکھی گئی یا تحریر میں شائع ہوتی رہی ہیں، ان میں زیادہ تر کسی نقطہ نظر کے تحت لکھی گئی ہیں مگر پیش نظر کتاب میں مختلف موقف دیئے گئے ہیں اور آنکھوں پر تعصب یا جانبداری کی سیاہ کا جانبداری کی سیاہ پٹی باندھ کر تحریریں مرتب نہیں کی ۔ کراچی کی کہانی ” کی جلد اول میں شہر کے ماضی اس کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کی ابتدا سے کہانی کا آغاز کیا گیا ہے جب اس نشر کی بنیاد پڑی تھی۔ پھر مرحلہ وار، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کیا کیا اور کیسے تبدیلیاں آتی گئیں ؟ ان کے بارے میں بتایا گیا ۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے کراچی کی ابتدائی وترقی میں حصہ لیا۔ ؟ یہاں ماضی میں میں کسی قوم لوگ رہتے تھے ۔ ؟ اس وقت یہاں کے اقتصادی اور سماجی حالات کیسے تھے۔ ؟ اور اس کا محل وقوع کیا تھا جو میں پھیلا یا بدل گیا ۔ ؟ یہ سب کچھ مختلف مضامین بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض مضامین قدیم پیروں کے تراجم ہیں جن میں کراچی کے ماضی کی تحریروں ہے کھائی پرکشی کی گئی ہے۔ جدید تحریریں، تجزیاتی بھی ہیں اور واقعاتی جلد کے آخر میں دس نقشے شامل ہیں جو کراچی شہر کے محل وقوع اور وقت کے ساتھ ساتھ اس محل وقوع میں آنے والی تبدیلیوں کی واقعاتی بھی ہیں۔ اس جلد کے آخر میں دس گیارہ تھے نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسری جلد میں تازہ مضامین بھی ہیں، فکشن بھی ہے، اور ایسی تحریر میں بھی جو یہاں ماضی قریب میں پیش آنے والے حالات دواقعات کے علاوہ اس شہر کی سماجی، معاشی اور سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جہاں تک لکھنے والوں کا تعلق ہے، تو سوا آٹھ سو کے لگ بھنگ صفحات پر پر پہلے ہوئے یہ مضامین کئی لوگوں نے تحریر کئے ہیں۔ جون میں انگریزی ہندی اور سندھی سے تراجم بھی ہیں اور براہ ہیں راست اردو میں لکھے گئے مضامین بھی ہیں ۔ مختصر طور پر یہ جا سکتا ہے کہ کراچی کی کہانی ” اس شہر کے انتقالی مجیدہ اور اہم مسائل کو گھٹنے کی بھر پور کوشش ہے۔ مرتب نے شہر کے مسائل، مصائب اور مشکلات کے نہیں منظر کی وضاحت کے لئے اس سے متعلق ہر موضوع اور پر پهلوی مواد جمع کر دیا ہے تاکہ تجاری اس کے مطالعہ کے
کراچی کی کہانی
مرتب اجمل کمال
نارتھ کراچی ٹاؤن شپ کراچی 75850 صفحات جلد اول 416 – جلد دوم 408 ملنے کا پیا۔ آپ کی کیا ہیں۔ لی۔ 140 کیڑا 1 – بی
تیت فی جلد ایک سو پچاس روپے جلد ہو کسی نے کہا ہے کہ بعض شہروں کی وجہ سے لوگ اچھے سے لگتے ہیں اور بعض لوگوں کی وجہ سے شہر اچھے لگتے ہیں۔ یہ سے بات جمالیاتی نقطہ نظر سے کسی گئی ہے یا عمرانیاتی نقطہ نظر ہے۔ ؟ اس کا تو اندازہ نہیں لیکن اس سلسلے میں یہ ضرور فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ شہروں کے دکھ ان میں رہنے والوں کے رکھ ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے دکھوں میں شر بھی شریک ہوتے ہیں۔ کم از کم یہ بات کراچی کے بارے میں ہیں تو ضرور کسی جاسکتی ہے۔ اس شہر نے گزشتہ چند برس میں ایک جو دکھ جھیلے ہیں اور اس عرصہ میں یہاں کے لوگ جس عذاب سے گزرے ہیں وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک بست ری قومی تاریخ کا ایک بہت بوا الی ہے۔ وہ کونسے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل تھے گئیں یا ہیں جن کی وجہ سے یہاں جای دور بادی ہوئی اور لوگوں اور کے مال و متاع کے ساتھ ساتھ ان کی جائیں بھی جڑے ہوئے حالات کی بھینٹ پڑھیں ۔ ؟ ان مسائل کے بارے میں اب تک بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اخبارات کیسے وجرائد نے مسلسل لکھا ہے۔ دانشوروں نے اپنے اپنے طور ہے پر تجدیئے گئے ہیں۔ سیاست دانوں نے ان کی نشاندہی کے تعمیر لئے اظہار خیال کیا ہے اور ادیبوں شاعروں نے بھی اپنا اپنا کے نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس طرح پس منظر اور پیش منظر کی وضاحت کرتے ہوئے بہت سی تحریر میں سامنے آچکی ہیں بعد جن میں چند ایک کتابی صورت میں بھی ہیں۔ ان میں میں صحافیانہ انداز کی کتابیں بھی ہیں، تجزیاتی طرز کی بھی ہیں۔ کی بھی ہیں۔ فکشن پر مشتمل کتا میں بھی ہیں اور منظومات کی کتا ہیں بھی شامل ہیں۔ کراچی کی کہانی ” اس سلسلے کی ایک کڑی ہے مگر یہ انتہائی سنجیدہ کوشش ہے ” آج کی کوشش ہے ” آج کی بھی سکتا ہیں ” ایک کتابی سلسلہ ہے جو 1989ء میں شروع ہوا تھا کی ایک اور اس میں اب تک بعض موضوعات پر قابل مطالعہ اور نہایت اہمیت کا حامل مواد شائع ہوچکا ہے۔ “آج” ہیں نے لاطینی امریکا اور ہوشیا پر جو خصوصی شمارے شائع کئے وہ یاد گاری حیثیت کے تھے اور اب کراچی شہر کے بارے میں دو جلدوں پر مشتمل تجزیاتی اور تاریخی مضامین جمع کئے گئے ہیں۔ یہ دونوں جلد میں جس محنت سے مرتب کی گئی ہیں، اس کا اندازہ انہیں دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے اور اس کے مرتب اجمل کمال صاحب کی کاوش کی داد دی جانی چاہئے۔ انہوں نے “تعارف” میں وضاحت کیا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
کرنے پر ان کی کمائی کر اپنی شری حقیقت کو سمجنے کی کراچی کراچی ایک کوشش ہے کیونکہ کسی شر کی حقیقت کو جانے بغیر اس کو در پیش مسائل کا احاطہ کرنا اور ان کا کوئی ممکنہ حل دریافت کرنا ممکن ہیں۔ یہ کہانی بہت سے راویوں کی بعد اپنی کوئی گی اور غیر جانبدارانہ رائے قائم کر سکتے۔