روزنامہ جنگ کراچی پیر 19 اکتوبر 1998
نقد و نظر
شین
تبصرے کے لیے کتابوں کی دو جلدوں کا آنا ضروری ہے (ادارہ)
لیکن بنیادی طور پر اختر حمید خان صاحب کی طویل جد و جہد کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اگر ایک انسان کسی کسی . مقصد کے حصول کی خاطر تن من دھن سے لگ جائے تو پھر وہ ہر مشکل اور رکارت عبور کر لیتا ہے۔ ان مضامین کے مطالعہ سے ایک پر عزم اور با مقصد زندگی گزار نے والی شخصیت کے عزائم اس کے نظریات اور اس کی عملی زندگی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ کتاب کے شروع میں عارف حسن کا لکھا ہوا تعارف ہے جس میں اختر حمید خان صاحب کی زندگی اور ان کے منصوبوں اور کارناموں کا مفصل جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ان مضامین کا اردو ترجمہ اختر حامد خان کا ہے جبکہ تعارف کا ترجمہ ارم سلطانہ صاحبہ ۔ تا ارم نے کیا ہے۔ کتاب پیپر بیک سے شائع ہوئی ہے۔
کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہ کام اتنا آسان نہیں تھا لیکن اختر حمید خان | صاحب کی بے لوٹ لکن اور انتھک محنت کا یہ ثمر ہے جس کا اعتراف ملک میں : ملک میں بھی ہو رہا ہے اور بیرونی دنیا میں بھی کیا جارہا بھی کیا جا رہا ہے۔ پیش پیش نظر کتاب کو میلا ہے اور نئی تک ملک کے اس قابل نظر فرزند کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو وہ وقتا فوقتا لکھتے رہے ہیں اور اس میں ان کے چند خطبات بھی شامل ہیں۔ اس کتاب کا نام ” کو میلا ہے اور کئی تیک “ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اختر حمید خان صاحب 1960ء کی دہائی میں سابق مشرقی پاکستان کے شہر کو میلاد میں ترقیاتی منصوبے کے ڈائریکٹر تھے اور انہوں نے وہاں سماجی شعبے میں انسانی فلاح و بہبود کیلئے بڑا کام کیا تھا۔ پھر جب وہ پاکستان آئے تو کراچی کی ایک کی آبادی اور کئی میں پائلٹ پروجیکٹ کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اس طرح انہوں نے یہ دونوں منصوبے شروع بھی کئے اور اپنی رہنمائی میں انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔ یہ مضامین جنہیں مشاہدات و تجربات کا نام دیا کیا ہے جناب اختر حمید خان جہاں ان دونوں منصوبوں کی داستان بیان کرتے ہیں وہاں سماجی سائنس کے رموز و نکات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں فلاحی منصوبوں کو کسی طرح اور کن حالات میں آگے بڑھایا ؟ ان کی راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آ شکلات پیش آئیں ؟ انہوں نے ان مشکلات پر قابو پانے کیلئے کوئی تدابیر اختیار کیں ؟ کن کن مراحل سے گزرے ؟ اور پھر یہ کہ ان کی اپنی ذاتی زندگی میں کیا کیا موڑ آئے وہ کن باتوں سے متاثر ہوئے انہوں نے دوسروں سے کیا سیکھا اور ان کے ذہین و دل نے مشکلوں کے باوجود ان کا ساتھ کیو کر دیا ؟ یہ اور اس قسم کے دیگر کئی پہلوؤں اور گوشوں پر ان مضامین کے مطالعہ سے روشنی پڑتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے ؟ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے بچین اور پھر اپنی ابتدائی تربیت کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ زندگی کے متعلق اپنے فلسفیانہ نقطہ نظر کی وضاحت بھی کی ہے، اور وہ جن دانشوروں سے متاثر ہوتے ہیں ان پر بھی لکھا ہے۔ اس طرح اگر مجموعی طور پر کتاب پر نظر ڈالیں تو اس میں پاکستان کے ایک نامور سماجی دانشور اور ایک سرگرم عملی سماجی رہنما کے خیالات ، انکار نظریات، محسوسات، مشاہدات، تجربات اور خود اس کی اچھی زندگی کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ یہ مضامین مختلف موضوعات سے بحث کرتے ہیں اور کئی منصوبوں سے متعلق ہیں
کو میلا ہے اور نگی تک
مصنف اختر حمید خان
ترجمہ اختر حامد خان ارم سلطانه
ناشر سٹی پر میں بک شاپ 316۔ مدینہ کی مال عبداللہ
ہارون روڈ صدر کراچی 74400 –
صفحات – 240
قیمت ایک سو میں روپے
اختر حمید خان ہمارے ملک کی ان نامور شخصیات میں سے ہیں جن کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے اور ان کا شعبہ سماجیات یا سماجی سائنس ہے۔ وہ محض ایک سماجی کارکن یا سامی رہنمائی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے عملی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک سماجی ملکر، معاشرتی دانشور اور ماہر عمرانیات کا کردار ادا کیا ہے۔ پھر یہ بھر اور سے ادا وہ بھر پور کردار جس ہمت، حوصلے اور ثابت قدمی سے ادا کیا ہے وہ اپنی جگہ خود مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جب سابق مشرقی پاکستان (اب بنگہ دیش) کے شہر کو میلا سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تو انہوں نے کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ دو برس تک زرعی یو نیورسٹی لائل پور (اب فیصل آباد) اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات میں پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد وہ ورکنگ پر افیسر کی حیثیت سے بیرون ملک چلے گئے اور مشی گن اسٹیٹ یو نیور سٹی میں پڑھایا اور 1979ء تک وہاں قیام کر کے واپس کراچی آگئے۔ یہاں کراچی میں انہوں نے 1980ء میں بعض اداروں کے تعاون سے اور کئی پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز گیا جس کے تحت کی ایک ترقیاتی منصوبوں پر عمل کیا گیا اور انہیں