کوئی ایسا شخص جو کتاب سے دوستی رکھتا ہو، وہ کبھی تنہا نہیں رہ سکتا۔ کتاب سے اس کی سرگوشی کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ اسے کسی ان دیکھے جہان کی سیر کرانے والی ہے۔ علم و دانش کے موتی رولنے والی کتاب ہر کسی کے لئے ایک بہترین ساتھی کا درجہ رکھتی ہے۔ دوستی اور محبت کے یہ رشتے اس وقت مزید گہرے ہو جاتے ہیں، جب کتاب کے الفاظ قاری کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑنے لگتے ہیں۔ یہ نقوش اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انسان کی سوچ اور فکر کا دھارا ہی بدل دیتے ہیں۔ کتابوں سے دوستی کا یہ رشتہ صدیوں پر محیط ہے اور جب تک یہ دنیا باقی ہے یہ رشتہ قائم و دائم رہے گا۔ کتاب کا ہر ورق ایک نئی دنیا ہے، نئی شعور کی راہیں، نئی منزلوں کا پتہ، نئی سوچ اور فکر کے دریچے، غرض یہ کہ کتاب میں وہ سب کچھ ہے جو انسان کو چاہیے، یہی وجہ ہے کہ کتاب سے دوستی رکھنے والے کبھی تنہا نہیں رہتے، وہ ہر لمحہ کتاب کے ساتھ رہتے ہیں اور کتاب ان کے ساتھ۔ کتاب سے دوستی کا یہ رشتہ اس وقت اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے جب کتاب انسان کو کچھ نہ کچھ دے کے جائے۔ زمیندارانہ نظام اور ذات پات کی تفریق، برقی ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ ہے زیر نظر کتاب ”ماس کمیونیکیشن“ ایک ایسی کتاب ہے جس کی تالیف جاوید جبار نے کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پاکستان میں ماس کمیونیکیشن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے آغاز میں ملک کے ممتاز دانشوروں، صحافیوں اور ادیبوں نے جاوید جبار سے تفصیلی گفتگو کی ہے، جس سے قارئین کو ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کتاب میں ڈھائی سو سے زائد تصاویر بھی اس کتاب کی زینت ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ کس طرح بعض قوتیں میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں اور کس طرح وہ اپنے مقاصد کے لئے میڈیا کو استعمال کرتی ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ کس طرح زمیندارانہ نظام اور ذات پات کی تفریق برقی ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے میڈیا کی آزادی اور اس کے مستقبل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح سرکاری اور نجی سطح پر میڈیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جاوید جبار نے اس کتاب میں میڈیا کی آزادی کے لئے چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان مضامین اور تقاریر کا مجموعہ ہے جو مصنف نے مختلف مواقع پر پیش کیں۔ میڈیا کے بارے میں لکھی گئی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔ فلم، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبار اور ماہنامے اس کتاب میں مصنف نے پاکستان میں میڈیا کے مختلف شعبوں، مثلاً فلم، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبار اور ماہناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر شیر محمد کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں شامل تمام مضامین اور تقاریر میڈیا کے طلبا کے لئے بہت مفید ہیں۔ جاوید جبار نے اس کتاب میں میڈیا کے مختلف پہلوؤں پر جس طرح روشنی ڈالی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ڈاکٹر شیر محمد نے کہا کہ یہ کتاب میڈیا کے طلبا کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے۔ قمر نے کہا کہ اس کتاب میں شامل تصاویر بھی بہت معلوماتی ہیں۔ اس کتاب میں شامل ہیں، اس کتاب کا اسلوب بہت عمدہ اور دلچسپ ہے۔ اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی مراعات یافتہ طبقہ علم کو نچلے طبقے تک منتقل ھونے کی کہانی یہ کتاب ایک ایسے پاکستانی سائنسدان کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی کے بہترین شب و روز سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے وقف کر دیئے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کو قلمبند کیا ہے، جس سے قارئین کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ کلام کیا۔ ڈاکٹر عطا الرحمن کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ ہمارے ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے جو اسے دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس کتاب میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے کراچی یونیورسٹی کیمپس میں ان کا قیام عمل میں لایا۔ اس کتاب میں انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔ قوم کا اصل سرمایہ، ہنر کا نہیں، ٹیکنالوجی اور سائنس ہے زیر نظر کتاب ”سائنس اور ٹیکنالوجی“ ڈاکٹر عطا الرحمن کی ایک اور اہم تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہیں کی تو ہم دنیا کی دوسری قوموں سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ اس کتاب میں انہوں نے مختلف ممالک کی مثالیں دی ہیں جنہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر کے اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہمارے ملک کی ترقی کا انحصار سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر ہے۔ ڈاکٹر عطا الرحمن نے اس کتاب میں اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہمارے ملک میں ہنر مند افراد کی کمی نہیں ہے، کمی ہے تو صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی، کیوں کہ قوم کا اصل سرمایہ ہنر کا نہیں، ٹیکنالوجی اور سائنس ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے کراچی یونیورسٹی میں ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ اس کتاب میں مصنف نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی تو ہم بھی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔ چٹھی رساں کے کالم میں یہ کتاب ”چٹھی رساں کے کالم میں“ امیر الحق نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ان خطوط کو جمع کیا ہے جو انہوں نے مختلف اخبارات و جرائد میں ”چٹھی رساں“ کے کالم میں تحریر کئے تھے۔ اس کتاب میں انہوں نے مختلف سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا انداز بیان بہت دلچسپ اور موثر ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔ مملکت کے بجائے سماج کو ترجیح دیئے زیر نظر کتاب ”مملکت کے بجائے سماج کو ترجیح دیئے“ امیر الحق نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں مملکت کے بجائے سماج کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس کتاب میں انہوں نے ان مسائل کا بھی ذکر کیا ہے جو معاشرتی سطح پر ہمارے معاشرے کو درپیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے معاشرتی سطح پر ان مسائل کا حل تلاش نہیں کیا تو ہم کبھی بھی ایک ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اس کتاب میں اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کتاب کی قیمت بھی درج نہیں ہے۔ ٹینگ ٹینگ ، امیر الحق کی ایک اور کتاب اس کتاب میں بھی امیر الحق نے اپنے مخصوص انداز میں معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بچوں کی نفسیات اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی چند اہم باتیں تحریر کی ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ ایک دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے۔ اس کتاب کی قیمت بھی درج نہیں ہے۔
image89
