SO
THE DAILY JANG KARACHI, SUNDAY 22, FE
شین عين عد
*
نقد و نظر
تبصرے کے لیے کتابوں کی دو جلدوں کا آنا ضروری ہے (ادارہ) ہے
پیپر بیک آٹھ ادبی کتابوں کا سیٹ
مصنفین :
محمد خالد اختر حسن منظر، اسد محمد المصاري سعيد الدين خان نیر مسعود اجمل کمال ، نسیم
باشر
ادیب اور طور و حراج نگار جناب محمد خالد اختر کی بارہ کہانیوں کا مجموعہ ہے جن میں ان کا مخصوص اور منظر و طرز نگارش پوری طرح موجود ہے۔ محمد خالد اختر صاحب کی کئی کتا بیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ” مائی والا میں وصال اور ملا عبد البانی ” بہت مقبول ہو ہیں۔ ان کی موجودہ کتاب میں جو کہانیاں شریک ہیں یہ مختلف اوقات میں اردو کے معروف ادبی رسالوں میں طبع ہو چکی ہیں جنہیں اب مرتب کیا گیا ہے۔ یہ کتاب 244 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی نیت ایک سو دس روپے ہے۔
آج کی کتا ہیں ” کی پریس اک شاپ – 509 – ساقی سینٹر عبداللہ بارون رود – صدر کراچی 7440
دوسری کتاب ” سوئی بھوک ” ہے اور یہ مشہور یب حسین منظر کے انسانوں کا مجموعہ ہے۔ حسین منظر صاحب پیشے کے حال سے نفسیاتی معالج ہیں لیکن انہوں نے ادب میں افسانہ نگار کی حیثیت سے کہیں زیادہ نام پیدا کیا ہے۔ ان کے افسانوں کے دو تین مجموعے پہلے بھی چھپ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے پریم چند کے ہندی ناول کے علاوہ خود پریم چند کی زندگی کے بارے میں مضامین کے بھی تراجم کئے ہیں۔ “مولی بھوک میں حسن منظر کے تو المسالے شامل ہیں۔ یہ کتاب 242
مجموعی صفحات : 1484 مجموعی قیمت : چھ سو روپے
صفحات کی ہے اور آیت تو نے روپے ہے۔ تیری کتاب مصے کی نئی اصل ہے جس کے مصنف معروف شاعر اور ادیب اسد محمد خان ہیں اور اس میں ان کی بارہ طبع زاد کہانیوں کے علاوہ پانی تر ھے بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے ان کی تین کتابیں چھپ چکی کی اور ہیں جن میں ان کے گیتوں کا مجموعہ بھی ہے کیونکہ ان کی کی ادبی پہچان گیت نگار کی حیثیت سے بھی ہے۔ ایسے انہوں نے ٹی وی ڈرا سے بھی تو اصل ” 242 مصلحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت توے
وتھی کتاب ” طاؤس جان کی دینا ہے جو نیر مسعود صاحب کی کہانیوں کا مجموعہ ہے جس میں ان کی دس گمانیاں شامل ہیں۔ غیر مسعود صاحب ہندوستانی ادیب ہیں مگر وہ پاکستانی تارکین کیلئے بھی انہی نہیں ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ درس و تدریس سے ہے اور انہوں نے افسانہ نگاری کے علاوہ اپنے والدہ پر وفیسر مسعود حسن رضوی کی طرح تحقیق کے شعبے میں بھی کام کیا ہے۔ پیش نظر کتاب 242 صفحات کی ہے اور قیمت لوے رو
جواب دوست” پانچویں کتاب ہے جس کے مصنف تیم انصاری صاحب ہیں جو پیشے کے لحاظ سے سرجن ہیں اور میگزہ ہویوں مٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ اپنی اس کتاب میں مصنف نے اچھی گزشتہ زندگی کے حالات و واقعات تحریر کئے ہیں جن میں ان کی اس زندگی کی جھلکیاں بھی ہیں جو انہوں نے بیرونی ممالک میں گزاری۔ یہ کتاب تندی اور معاشرتی پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ جواب درست ” 140 صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت 65 روپے ہے۔
اس سیٹ کی پہلی کتاب ” رات ” ہے جس میں سعید الدین صاحب کی اھمیں شامل ہیں۔ سعید الدین صاحب کا تعلق بھی درس و تدریس کے شعبے سے ہے اور ان کی یہ تعمیں عام شاعری کی ڈگر سے مختلف ہیں۔ یہ کتاب 130 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 50 سے
آج کی کتا ہیں” کے اس بیت کی ساتھ ہیں اور آٹھویں کتاب ترجمہ ہے اور یہ دونوں تر تھے جناب اجمل کمال نے کئے ہیں۔ المنار ” ایک رپور تیار ہے جو ایک پولش ادیب و شمال ریتارد کالم خستگی کا تحریر کردہ ہے اور اجمل کمال صاحب نے انگریزی کے توسط سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ یہ کتاب انقلاب ایران کے بارے میں ہے۔ دوسری کتاب “بوف کور ” ہے جو ایران کے نامور ادیب صادق ہدایت کا ایک مظہر ناول ہے اور مترجم نے اسے براہ راست فارسی زبان سے اردو کا روپ دیا ہے۔ یہ دونوں ترجمے خوبصورت اور روان انداز بیان میں کئے گئے ہیں۔ شہنشاہ ” کی علامت 146 صفحات ہے اور قیمت 65 روپے ہے اور “بوف کور ” 100 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 40 روپے ہے۔ الر میں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ ناشرین کا کہنا
موجودہ مہنگائی کے دور میں جہاں ضروریات زندگی کی ہر چیز گراں ہوگئی ہے وہاں کتابوں کی قیمتیں بھی ہوتی جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں میں پہلے ہی کتاب خرید کر پڑھنے کا رجحان کم تھا۔ اب یہ اور بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تو ہمارے ہاں تعلیم کی شرح بہت کم ہے اور اوپر سے معاشی حالات کی وجہ سے لوگوں میں تبت خرید کم ہے چنانچہ کتاب اور قاری کارشتہ جو پہلے ہی کمزور ہے اوپر تها روز بروز مزید توتا جارہا ہے۔ جہاں تک کتاب کے منگا ہونے کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف امارے ہاں ہی نہیں پوری دنیا میں ہے اور بہت بہت پہلے سے ہے۔ تاقی پذیر ملکوں کی میں نہیں امیر ممالک میں بھی اس سے نے ناشرین کو کم قیمت کتا بیں چھاپنے کی ترغیب دی اور یہی ایک ہی پاؤنڈ پاکت کیس کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا جس نہیں تینیں بھی کم کر دیں۔ اس سے ایک طرف مہینے والی ہوئے پاخت سینے کی جلد کی بجائے دیر کانفہ سے جلد بندی کی جائے گئی۔ اس طرح کتابوں کی طباعت و اشاعت پر ہونے والی لاگت کم ہوئی تو ناشرین نے ان کی کتابوں کی تعداد بھی بڑھتی اور دوسری جانب قارئین کیلئے کتاب کرنا قدرے آسان ہو گیا۔ انسائیکلو پیڈیا اس کا نا میں محرم ہے کہ ہیچ بیک کتابوں کا سلسلہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کا آغاز انتدان کے ایک ناشر جوان ذیل نے 1777ء میں ایک سیریز چھاپ کر کیا جس کا عنوان تھا ” پرنس آف گریٹ بران” – 1831ء میں یوستن سوسائٹی نے دی امریکن کا تحریری آف ہوا کل ان کے ہم سے ہر ایک کتابوں کا سلسلہ شروع کیا تاکہ کم قیمت میں تعلیمی اور معلومات کتا ہیں لوگوں کو فراہم کی جائیں۔ پھر یہ رجحان بڑھنے لگا اور امن کے بعض اخباروں نے غیر مجلد چھوٹے چھوٹے ناول چھاپ کر اخباروں کے ساتھ تقسیم کرنا شروع کے جن کی معمولی قیمت لی جاتی تھی۔ ہر ایک کتابوں کے رجحان میں اس وقت انقلاب آیا جب 1935 ء میں پیوٹن نے کم قیمت کتا میں چھاپنے کا آغاز کیا اور اب دنیا بھر کے ممالک میں پیر ایک کتا ہیں کہتی ہیں جن کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو ہے کہ قاری کو کم قیمت میں کتاب مل سکے اور دور سر ہو کہ کتاب زیادہ تعداد میں لیے۔ میں ایک کتابوں کی اشاعت کا یہ پس منظر میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ خود ہمارے دین میں بھی بعض ناشرین نے اس میدان میں قدم رکھا اور آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے سے اس ضمن میں کوشش کی۔ کی ناشرین نے بھی ایک اردو کتابیں کھائیں جو بعض وجوہ نے کامیاب نہ ہو سکیں یادہ اس روپے ہے۔ سلسلے کو جاری نہ رکھ سکے۔ تاہم بعض اب بھی چھاپ ہے ہیں۔ حال بائیں کراچی سے افضلی سنز نے بھی جو شروع کیا اور اب تازہ کوشش ” آج کی کتا ہیں۔ کے ناشرین نے کی ہے اور ایک ساتھ آٹھ کتا ہیں ہم ایک میں شائع کی ہیں۔ اجمل کمال صاحب ایک عرصہ سے رسالہ “آری” شائع کر رہے ہیں اور انہوں نے معاصر ادب اور قدیم و جدید تاریخ کے بعض موضوعات پر قابل قدر خصوصی شمارے شائع کئے ہیں۔ وہ اردو کی کئی حقیقات کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ادب کے تراجم بھی تلاش کرتے رہتے ہیں اور اس طرح قاری کو عصر حاضر کے ادبی رجحانات سے آگاہ رکھتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور کم قیمت کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ہے پھر ایک کتابوں کے اس میں میں جو آلہ کتابیں شامل ہیں۔ ان میں ناول، افسانے ، کار نادر شاعری اور زاہم وغیرہ شامل ہیں جن کے تحصیل رے کی تو تھائی میں اس نے مصر تعارف میں ہوں
اتین اور دوسری کہانیاں اردو کے مشہور کتا نہیں مل سکتی ہیں۔
ہے اگر کاری و آٹھویں کی ہیں ایک ساتھ ناشر سے منگوانے کا با خریدے کا تو اسے چار سو روپے میں سماری