تبصره كتب
۱۶ – ۲۲ مارچ ۱۹۹۵ء ۱۷)
ریاستوں کو تسلیم کیا لیکن بوسنیا ہرزی گھر بنا کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ بوسنیا ہرزی گو دنیا کا صدر علی جاوزت بیگوچ کثیر المشرب اور سیکولر تھا حب الموسیوری کی قیادت میں سربیا کے سربوں نے علیم سربیا پر حملہ کیا تو یورپ کے لیڈروں نے اسے خانہ جنگی کا نام دیا۔ سرب الميت (۳۰) فیصد) نے بوسنیا ہرزی گو دنیا کے وے فیصد رقبہ پر قبضہ کر لیا اور سب سے چھوٹی الکیت (کروٹوں) نے ۳۰ فیصد رقبہ لے لیا اور مسلم اکثریت سے کہا کہ وہ منتشر اللیت کی حیثیت سے زندگی بسر کریں۔ یورپی ملکوں نے مربوں کو رعائیتیں دیتے رہے۔ تاریخ نے اتنا بڑا ظلم مسلمانوں کو قتل ہوتے دیکھا (دو لاکھ قتل ہو چکے ہیں) ان کی خواتین کی آبروریزی ہوئی لیکن یہ یورپی ملک آج تک نہیں دیکھا۔
آج یورپ کے ممالک بوسنیا ہرزی گونیا کے علاقے میں سے ۲۹ فیصد علاقہ مربوں کو دینا چاہتے ہیں۔ مسلمان یہ بات مانتے ہیں لیکن سرب ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور مغربی ممالک اس سلسلے میں کچھ بھی کرنا نہیں چاہتے۔ چیچنیا کو مغربی ممالک روس کا داخلی معاملہ کہہ کر چپ ہو جائیں گے لیکن بوسنیا ایک آزاد ملک ہے اور اقوام متحدہ کا رکن اجمل کمال نے بوسنیا کے مسلمانوں کا المیہ ہمارے سامنے ایسے الفاظ میں پیش کیا ہے جن پر ہم اعتماد کر سکتے ہیں۔ یہ تحریریں ان لوگوں نے ترجمہ کی ہیں جو جاتے ہیں کہ ترجمہ کا ئن کیا ہے اور خوبصورت ترجمہ کرتے ہیں۔ وہ خود بھی ممتاز ادیب ہیں۔ اجمل کمال کو چاہیے کہ وہ آج کا چچنیا پر خاص شمارہ شائع کریں اور اس اردو دان طبقہ کے جس کو پورا کریں جو ٹونیا کے علاقے کے متعلق اس کے سوا زیادہ نہیں جانتا جو ہمارے پریس میں جذباتی لیکن غلط ملط انداز میں لکھے ہوئے مضامین کی شکل میں شائع ہوتا ہے۔
سہ ماہی “آج ” کا خصوصی شمارہ سرائیوو سرائیوو
سہ ماہی “آج” نے بوسنیا ہرزیگوو نیا پر خاص شمارہ شائع کیا ہے جو ایک انمول دستاویز ہے۔ خالد احمد کا تبصرہ
الرحمان۔ یہ وہ چند لوگ ہیں جن کے کام سے یہ تبصرہ نگار آشنا ہے۔ اجمل کمال نے کم و بیش نصف تحریروں کے تراجم خود کیے ہیں اور یہ کمیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس محنت شاقہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے تمام ترجے بلند پایہ ہیں اور وہ بوسنیا ہرزی
کر آئے ہیں جنہیں اردو صحافت میں محض اس لئے نہیں اپنایا گیا کیونکہ مدیران کرام صحافت کو ایک خاص قسم کی دیکھی بھالی لفاظی تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اجمل کمال انگریزی لفظ Pluralist کا ترجمہ کثیر مشربی Populist کا ترجمہ قبولیت پسندانہ Monolithic کا ترجمہ یک پارچ Xenophobia کا ترجمہ غیروں کا آسیبی خوف اور Ethnic
Cleansing کا ترجمہ عملی خالصیت کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اصطلاحات اردو میں نہیں ہیں آپ ان تراجم کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اسلی خالصیت وغیرہ میں خرابت ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ تراجم نے اور دلچسپ ہیں۔ وہ سر بو کروٹ کے حروف کے نظام کو خوب کھے گئے ہیں اور درست طور پر ہے کو والی” کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ وہ کتابیات اور رومن حروف کو اسمائے معرفہ کے درست تلفظ کے لئے قائم رکھتے ہیں۔ یہ بات اردو لٹریچر میں نئی بات ہے جسے ابھی تک ہمارے کم لم ناشرین نے اپنانے سے اجتناب کیا ہے کیونکہ وہ اردو املا کے لعالم تسلیم نہیں کرتے۔
بوسنیا کے مسلمانوں کو دوسری عالمی جنگ میں کرونوں نے اس لئے قتل کیا کہ دو بنگر کے خلاف لڑے تھے اور اب سرب ان کا قتل عام کر رہے ہیں کیونکہ وہ یورپ کے ریاستی معیار اکثریت کی حکومت پر ایمان لائے ہیں۔ یوگو سلاویہ کے خاتمہ کے بعد یورپ کے تمام ملکوں نے تمام کئی
مدیر اجمل کمال
ناشر – آج کی کتابیں، کراچی قیمت وارد ہے
زبان اردو
کہانیوں کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا ہے۔
کمال صرف اچھے مترجم ہی نہیں ہیں وہ کسی منصب مسلمان ادیب کو نہیں چنا بلکہ ایک اجمل ۔ جو چیزیں ترجمہ کے لئے منتخب کرتے ہیں ان سے تہ چاتا ہے کہ ان کو اپنے موضوع پر بھی پوری پوری دسترس ہے۔ تاریخ نویسی کے لئے اجمل کمال نے برطانوی ادیب نوئیل میلکم کا انتخاب کیا ہے جس نے بوسنیا پر اب تک لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے اچھی کتاب ایک ایسے ملک میں بیٹھ کر لکھی ہے جس کی حکومت شرمناک حد تک بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف ہے ایک اور برطانوی باشندے کے رپورتاژ کی نمائندگی بھی اس شمارہ میں شامل ہے وہ ہے محالی را برٹ فسک جسے بوسنیا اور لبنان کے حالات و کوائف غیر جانبداری سے پیش کرنے کے شائع کیے ہیں ان کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ لئے شہرت ملی ہے یعنی را برٹ فسک کی تحریریں بھی مارکیوں کی تخلیقات کے جو ترجمے انہوں نے پیش کیے کتاب میں شامل ہیں۔ کتاب میں کئی دوسرے ادیب ہیں وہ بھی نادر اور بے مثال ہیں۔ ان تخلیقات میں اور بھی شامل ہیں لیکن وہ سب سرائیوں کے رہنے والے کچھ ہو نہ ہو کم از کم ایک بات تو پائی جاتی ہے کہ اردو غیر مسلم اور آزاد خیال لوگ ہیں جو انسانیت میں اس میں ایک ایسے مصنف کی تخلیقات ترجمہ کی گئی ہیں جن وقت یقین کیے ہوئے ہیں جب وہشت ان کے کا واقعی ترجمہ ہونا چاہیے تھا اور جو اس لائق ہے کہ اس اور گرو ناچ رہی ہے۔
برانیو و سرانیوو
گورینا کے چیدہ سیاسی اور ثقافتی مسائل بالا تکان قارئین تک پہنچاتے ہیں۔
یہ ایک جرات مندانہ کوشش ہے کیونکہ پاکستان کی صحافت میں نے اردو الفاظ ایسے معانی کے
اجمل کمال ہیں جو نہ صرف اردو کے بہت اچھے ادیب نے جو تخلیقی کاوش کی ہے وہ الفاظ سے مبرا ہے حالانکہ پاکستان میں ایسی بڑی برای مطبوعات غلطیوں سے پاکستان ایک طویل عرصے سے ادبی جریدوں کا شهرستان بن چکا ہے۔ اس قبرستان سے ایک امانی اون اور بلند پایہ علمیت کی حامل کامیاب کوشش ظهور پذیر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ستائیش کے حق دار مدیر ہیں بلکہ بلند مرتبت اور وغیر مترجم بھی ہیں۔ انہوں پاک نہیں ہوا کرتیں۔ سہ ماہی “آج” کا سرائیوو سراتیو خاص شماره پاکستان کی طرف سے پہلی قابل قدر کوشش ہے جس میں بوسنیا ہرزی گونیا کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرح سے یہ خاص شمارہ کراچی شہر کی طرف سے سرائیوں کے لوگوں کے لئے رفاقت اور یگانگت کا احساس دلانے کی کوشش ۔ اور اجمل کمال نے ترجمہ کر کے جو مجموعے پہلے
نیازی کی اس کتاب کا بھی اردو ترجمہ کیا ہے جو پاکستانی پریس کے متعلق کلاسیکی انکشافات پر منی ہے۔ دنیا بھر کی ہم عصر تعلیم کہانیوں پر مشتمل ایک بلند پایہ کتاب محمد محمد میمن نے تیار کی ہے۔ ان
کی نگارشات کا ترجمہ کیا جائے۔ اجمل کمال نے ضمیر اس بات پر اجمل کمال کی وابستگی کو خراج تحسین ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے سہ ماہی “آج” کے اس خاص شمارہ کے پاکستان میں چند بہترین ترجمہ کرنے والے ادیب یک جاگتے ہیں اور وہ ہمیں اسد محمد خان، محمد خالد اختر، فہمیدہ ریاض اور محمد سلیم اسد
image92
