آخری بیابان
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
ہندی کی “نئی کہانی” کی تحریک میں شامل نرمل ورما اپنے مخصوص اسلوب اور لسانی رویے کی بدولت جدید ہندی ادب میں ایک بے مثل مقام رکھتے ہیں۔ وہ 1929 میں شملہ میں پیدا ہوئے، بچپن پہاڑوں پر گزرا اور دلی کے سینٹ اسٹیفنز کالج میں تعلیم پائی۔ 1959 میں انھیں چیکو سلوواکیہ کے ادبیوں کی انجمن کی دعوت پر پراگ جانے کا موقع ملا۔ وہ چیکو سلوواکیہ میں سات برس رہے اور اس دوران انھوں نے منتخب چیک تحریروں کا ہندی میں ترجمہ کیا۔ نرمل ورما نے کہانی اور ناول کے علاوہ سفرنامے، ڈائری اور مضامین کی اصناف میں اپنا بھرپور تخلیقی اظہار کیا۔ انھوں نے 2005 میں دلی میں وفات پائی۔
نرمل ورما کے آخری ناول آخری بیابان میں ان کا مخصوص نثری اسلوب اور بھی زیادہ نکھری ہوئی صورت میں سامنے آتا ہے۔ وہ اپنی افسانوی تصویر بہت ہلکے رنگوں میں تیار کرتے ہیں اور اس طرح انسانی زندگی اور رشتوں کی نہایت نازک تفصیلوں کو بڑے موثر انداز میں گرفت میں لاتے ہیں۔ ناول کے تمام مرکزی کردار زندگی کے ایسے موڑ پر ہیں جب ان کی سرگزشت مکمل ہوچکی ہے، اور ان کی کہانی کو ایک ایسے راوی کی زبانی بیان کیا گیا ہے جو ان کے ماضی سے اسی طرح شناسائی حاصل کرنے کے عمل میں ہے جیسے ناول کا پڑھنے والا۔ اس کے علاوہ خود راوی کی اپنی زندگی بیانیے کے پس منظر میں موجود رہتی ہے۔ کم بیانی نرمل ورما کے فن کا بہت اہم خاصہ ہے اور اس عمل میں ان کی دھیمی اور حساس نثر کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ زیر نظر ترجمے میں اس نثر کو ممکنہ حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے اس ناول کا مطالعہ اور اردو ترجمہ ہمارے لیے ایک قیمتی لسانی تجربہ بھی ہے۔
ISBN 978-969-8380-91-5


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔