اور 4
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 450 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 402 |
| 10 + | 40% | ₨ 360 |
عورتیں اور بچے بھی غلام تھے کیونکہ پیدائش سے موت تک وہ کسی نہ کسی کی فرمانبرداری پر مجبور تھے۔ سبھی درخت غلام تھے، ہر پتھر اور بادلوں سے بھرا آسمان، آسمان پر تیرتا سورج ، ستارے، پانی، جنگل، اناج ، جو کہیں اور کسی جگہ مٹی میں نہیں ملادیا گیا تھا اور جس کی کونپلیں پھوٹنے والی تھیں ، غلام ہی تو تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا غلہ چکی میں پسنے نہ بھیجا جائے ،مگر بہرحال اس کے نصیب میں پسنا ہی لکھا تھا کیونکہ وہ غلام تھا۔ وہ الفاظ ، جن میں اس کے آس پاس موجود لوگ باتیں کرتے تھے ، غلامانہ الفاظ تھے، چاہے وہ کسی بھی زبان کے کیوں نہ ہوں ، انہیں بس چار حرفوں میں سمیٹا جاسکتا تھا، غلام ۔ ہر زندگی غلامی تھی ، خواہ وہ بڑھ رہی ہو یا ابھی ظہور میں آنے والی ہو۔ انسان کے خواب، اس کی آہیں، نوالے، آنسو، خیالات سب کے سب غلام تھے۔ لوگ غلاموں کی طرح زندگی بسر کرتے اور موت اور بیماری کے غلاموں کی شکل میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ۔ یہاں غلام دوسرے غلاموں کی غلامی کرنے کے اس کے علاوہ کچھ نہیں کررہے تھے۔ کیونکہ غلام محض وہ نہیں تھا، جسے بازار میں ہاتھ پاؤں باندھ کر فروخت کرنے کے لیے لایا جاتا، بلکہ وہ بھی غلام تھا، جو ان غلاموں کو خرید رہا تھا۔
ایوو آندرچ کی کہانی ”باندی” سے


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔