cpkarachi2020@gmail.com
03003451649

بے دخلیاں

 500
خصوصی رعایت
تعداد رعایت رعایتی قیمت
3 - 4 25%  375
5 - 9 33%  335
10 + 40%  300
اردو کتابیں عقیلہ اسمٰعیل
مصنف: عقیلہ اسمٰعیل
صفحات: 87

کراچی میں 1992ء سے اب تک 438، 17 مکان اور دکانیں مختلف سرکاری ترقیاتی اداروں کے بلڈوزروں کے ذریعے منہدم کی جاچکی ہیں۔ ان انہدامی کارروائیوں میں سے بیشتر کا مقصد زمین ہتھیانا تھا تاکہ اس پر کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر کی جاسکیں یا سیاست دانوں، نوکر شاہی اور ڈویلپروں کا گٹھ جوڑ اس زمین کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرسکے۔ لوگوں کی اپنے مکانات سے بےدخلی کا عمل سفاکانہ انداز میں ہوتا ہے: سرکاری ایجنسیاں غریب شہریوں کو کسی پیشگی اطلاع، معاوضے یا متبادل رہائش کے بغیر ان کے سر چھپانے کے ٹھکانے سے محروم کردیتی ہیں۔ ایسی بیشتر صورتوں میں لوگ اپنے روزگار سے اور بچے اپنی تعلیم سے محروم ہوجاتے ہیں اور پورا تعمیر شدہ ماحول ملبے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ تخمینے کے مطابق ان انہدامی کارروائیوں کے نتیجے میں کراچی کے غریب شہری اب تک 174 1رب روپے کا نقصان اٹھاچکے ہیں۔ ایک اور تخمینے کی رو سے اگر لیاری ایکسپریس وے واقعی تعمیر کیا گیا تو اس کے نتیجے میں 25،400 مکانات مسمار کردیے جائیں گے ، 1230،220 افراد پرمشتمل آبادی بے دخل ہوگی اور غریب شہریوں کو چار ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔

اربن ریسورس سنٹر (URC) 1992 سے انہدام اور بے دخلی کے واقعات کی نگرانی اور دستاویز سازی، اور غریب شہریوں کے رہائشی حقوق کے تحفظ کے لیے پیروکاری کررہی ہے۔یو آر سی نے اس معاملے کے تمام متعلقہ فریقوں ـ متاثرہ افراد، سرکاری ایجنسیوں، شہری منصوبہ سازوں، این جی اوز اور عوامی تنظیموں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں وغیرہ ـ کے مل بیٹھنے اور مسئلے پر گفتگو کا عمل بھی شروع کیا ہے تاکہ ایسی متبادل شہری ترقیاتی منصوبہ سازی کی بنیاد رکھی جاسکے جو مقامی، کم لاگت اور انسان دوست ہونے ہو نہ کہ امرا کو فائدہ پہنچانے والی ایسی ترقیاتی حکمت عملی جو شہر کے باشندوں کی اکثریت کے لیے مصائب اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔

زیر نظر کتاب یو آر سی کی انہی کوششوں کے دوران جمع ہونے والی معلومات پر بنیاد رکھتی ہے اور اس میں واقعاتی مطالوں، بے دخلی کے واقعات کی رپورٹوں، متاثرہ افراد کے انٹرویوز جمع کردہ اعداد و شمار اور یو آر سی کے منعقد کردہ اجلاسوں میں سامنے آنے والے نکات کے تجزیے کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ بے دخلیوں سے متعلق معاملات کو گہرائی میں سمجھا جاسکے۔

ISBN 969-8380-61-2