چھانگیا رُکھ
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 938 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 838 |
| 10 + | 40% | ₨ 750 |
*چھانگیا رُکھ* پنجابی شاعر بلبیر مادھو پوری کی آپ بیتی ہے جو ہندوستان کے دلت ادب میں ایک نمایاں درجہ رکھتی ہے۔ بلبیر مادھو پوری کا بچپن اور لڑکپن مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں میں گزرا۔ ‘چھانگیا رکھ’ کے معنی ہیں ایسا پیڑ جس کا اوپر کا گھنا حصہ کاٹ ڈالا گیا ہو ، اور ارد گرد سے اس کی بے دردی سے چھنٹائی کر کے اسے کم قد اور بے حقیقت بنادیا گیا ہو۔ بلبیر مادھو پوری نے اپنی آپ بیتی کو یہ عنوان دے کر اسے ہندوستان کے ہر دلت یا اچھوت باشندے کا استعارہ بنادیا ہے جس کا بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا امکان ہندو سماجی نظام کے ہاتھوں چھین لیا گیا ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ چھا نگیا رُکھ کا نام اس پیڑ کی اندرونی مزاحمت اور بغاوت کی بھی علامت ہے کیونکہ اس میں سے دوبارہ تازہ کونپلیں اور ننھی ٹہنیاں نکلنے لگتی ہیں۔ اصل پنجابی میں لکھی گئی یہ آپ بیتی ایک دلت کی محرومی ، سماجی علیحدگی اور مسلسل تحقیر سے پھوٹنے والی اذیت کی بھی کہانی ہے اور مزاحمت ، کامیابی اور امید کی بھی۔ ایک دلت لکھاری کی زندگی کا داخلی بیانیہ اس کی برادری کے ذات پات کے تجربے کے وسیع تر بیان میں ڈھل جاتا ہے۔ در حقیقت اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ بہت سی کالے امریکیوں کی آپ بیتیوں سے جا ملتی ہے۔
ISBN 978-969-648-036-5


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔