چوبیس آنکھیں
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
کسی دانا نے امن اور جنگ کا فرق یوں بیان کیا تھا کہ امن کے دنوں میں اپنی طبعی عمر گزار کر مرنے والے باپوں کو ان کے بیٹے گورستان تک پہنچاتے ہیں جبکہ جنگ کے زمانے میں بوڑھے باپوں کو اپنے جوان بیٹوں کی میتوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔ انسانوں کے دو گروہوں کے درمیان ہونے والی ہر جنگ نہایت بلند آہنگ قومی اور نظریاتی مقاصد کے دلفریب نعروں کے جلو میں وارد ہوتی ہے اور ان نعروں کی گونج میں یہ سادہ انسانی حقیقت نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے کہ جنگ کا مطلب دونوں طرف کے جوانوں کو زندگی کے امکانات سے محروم کرکے طبعی عمر کو پہنچنے سے بہت پہلے ، موت سے ہمکنار کر دیتا ہے، جنگ کی بابت جو بنیادی انسانی سوال بار بار اٹھاتے رہنا چاہیے وہ یہ ہے : کیا کوئی قومی یا نظریاتی مقصد اس لائق ہے کہ نوعمر انسانی زندگیوں کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے؟ جاپانی ناول نگار اور شاعر ساکائے سوبوئی (Sakae Tsuboi) نے اس ناول میں یہی سوال اٹھایا ہے۔
ساکائے سوبوئی 1899 میں خشکی سے گھرے سمندر سیتو کے جزیرۂ شود و شیما میں پیدا ہوئیں۔ سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے جزیرے کے ڈاک گھر اور ٹاؤن ہال میں کلرک کے طور پر دس برس کام کیا۔ 1925 میں وہ توکیو منتقل ہوگئیں جہاں شاعر شیگے جی سوبوئی سے ان کی شادی ہوئی۔ وہیں بعد میں وہ جاپانی ناول نگار خواتین، مثلا یوریکو میا موتو اور اینیکو ساتا سے متعارف ہوئیں اور ان کی حوصلہ افزائی کے زیر اثر فکشن میں طبع آزمائی شروع کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ان کے متعدد ناول منظر عام پر آئے۔ وہ ایسی کہانیاں سنانے میں خاص مہارت رکھتی تھیں جن کے مرکزی کردار بچے ہوں ۔ اس قسم کی کئی تحریروں پر انھوں نے مختلف اعزاز بھی حاصل کیے۔ چوبیس آنکھیں 1952 میں شائع ہوا اور چھپتے ہی مقبول عام ہو گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد فلم ڈائریکٹر کیسوکے کینوشیتا (Keisuke Kinoshita) نے اس ناول پر ایک فلم بنائی جس کا ہر عمر کے ناظرین نے پُر جوش خیر مقدم کیا۔ ساکاے سوبوئی نے 1967 میں وفات پائی۔
ISBN: 978-969-648-080-8


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔