گھر
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 450 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 402 |
| 10 + | 40% | ₨ 360 |
وبھوتی نرائن رائے متوسط طبقے کے تیزی سے نیچے گرتے ہوئے گھرانے کا حال سنارہے ہیں جس کے افراد اپنی بد حالی چھپانے کے لیے طرح طرح کے جھوٹ بولنے پر مجبور ہیں۔ یہ منشی جی کا گھرانہ ہے جو اپنے گریجویٹ ، بے روزگار بیٹے ونود ،ایک بن بیاہی بیٹی راجکماری، اور بگڑے ہوئے چھوٹے بیٹے پپو کے ساتھ رہتے ہیں جو اسکول سے بھاگ جاتا ہے اور اپنے گھر سے پیسے چراتا ہے۔ رائے نے چھوٹی چھوٹی تفصیلات سے اس دو کمروں کے گھر کو کاغذ پر اجاگر کر دیا ہے جس میں گھر کے چاروں افراد کو لامحالہ ایک دوسرے کے بارے میں ہر بات معلوم ہے لیکن ان کو یہی ظاہر کرنا ہے کہ انہیں کچھ معلوم نہیں : اس گھر کا ہر فرد اپنے وجود سے شرمندہ ہے۔
لیکن جلتی ہوئی شرم کا یہ گھر ایک خوابوں کا گھر بھی ہے۔ رات آتی ہے تو ان دو کمروں میں رہتے چاروں افراد ایتا اپنا خواب دیکھتے ہیں۔ راجکماری جو لین دین کی مناسب رقم نہ ہونے کے باعث کنواری ہی اٹھائیس برس کی ہورہی ہے۔ ایک راجکمار کا خواب دیکھتی ہے جو اسے کہیں بہت دور بادلوں کے پار لے جائے گا۔ بڑا بیٹا ونود ، حساس اور رومیٹک نوجوان، جس کا پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے پیار چل رہا ہے (جو اس نفسیاتی ماحول میں قطعی ممنوع ہے ) یہ خواب دیکھتا ہے کہ اس کو اس کی صلاحیتوں اور قابلیت کے مطابق ملازمت مل جائے گی اور وہ اپنی محبوبہ سے شادی کرسکے گا۔ چھوٹا بیٹا پپو، جو ابھی پوری طرح جوان نہیں ہوا، اپنی نا طاقتی کی بے بسی میں گاؤں کے بنیے شنکر کی دکان پر ڈاکہ ڈالنے کا خواب دیکھتا ہے؛ جس کا پسندیدہ حصہ یہ ہے کہ بنیے سے سب پیسے چھیننے کے بعد دکان سے باہر نکلنے سے پہلے وہ اپنا نقاب سرکا کر ظالم بنیے کو اپنا چہرہ دکھادے گا تا کہ وہ خوب سمجھ جائے کہ یہ اس بے بس لڑکی کا بھائی ہے جس کو وہ اپنی دکان میں روز بے حرمت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور آج وہ اس کے سامنے خود گڑگڑا رہا ہے۔
ان جوان خوابوں پر چھتری کی طرح سایہ کیے ہوئے بوڑھے منشی جی کا خواب ہے۔ وہ بھی گھر کے دوسرے مکینوں کی طرح بستر میں لیٹے جاگ رہے ہیں۔ ان کی زندگی اب مسلسل شرمندگی بن چکی ہے۔ وہ اولاد کی ضروریات پوری نہیں کرپارہے ہیں اور اس پدری نظام میں گھر کے سربراہ کہلانے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔ اب وہ ونود کی ملازمت کا خواب دیکھ رہے ہیں جس سے گھر کے حالات سدھر جائیں گے ؛ اس کی شادی کی لین دین سے ان کی اپنی بیٹی راجکماری کی شادی کا بندوبست ہوجائے گا اور پھر گھر کے اخراجات کے چھوٹے موٹے بل ، اخبار کا بل ، دودھ والے کا، یہ سب پورے ہوتے رہیں گے۔
وبھوتی نرائن رائے نے ان ننھی تفصیلات سے جس زندگی کو تخلیق کیا ہے وہ دل چیرنے والی ہیں اور اذیت ناک۔ ایسی کوششیں جو کہانی کے کردار کسی نہ کسی طرح اپنی عزت نفس قائم رکھنے کے لیے کرتے رہتے ہیں، یا ہار مانتے ہیں۔
978-969-648-006-8


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔