cpkarachi2020@gmail.com
03003451649

لاش کی نمائش

 950
خصوصی رعایت
تعداد رعایت رعایتی قیمت
3 - 4 25%  713
5 - 9 33%  637
10 + 40%  570
اردو کتابیں حسن بلاسم
مصنف: حسن بلاسم
مترجم: ارجمند آرا
صفحات: 150

حسن بلاسم کی کہانیاں ایک ایسے ملک کا بیانیہ ہیں جسے بتدریج تباہ کردیا گیا، جس میں خاک و خون مل کر ایک ہوگئے ، جہاں زندگی کی سفاکیاں موت کی سفاکیوں سے ہم آغوش ہوگئیں ، جس کی عصری زندگی میں رومان اور تخیل کے لیے گنجائشیں کم ہوگئیں، اس کے باوجود ان کہانیوں میں الف لیلی کی سی داستان طرازیاں بھی ہیں، اور کافکا، بورخیس اور اتالو کلوینو کی سحر طرازیاں بھی۔ یوں کہانی جادوئی حقیقت نگاری اور ٹھوس تاریخی حقیقتوں سے بیک وقت معاملہ رکھتی ہے۔
عراقی ادیب اور فلم ڈائریکٹر حسن بلاسم 1973 میں بغداد میں پیدا ہوئے، بچپن کا بیشتر حصہ کرکوک میں گزارا۔ بچپن ہی سے وہ افسانے ، شاعری، ڈرامے اور مجھے لکھتے تھے۔ بلاسم کے والد فوج میں ملازم تھے اور نو بچوں پر مشتمل بڑے سے خاندان کے تنہا کفیل۔ جب بلاسم سولہ سال کے تھے ، باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بغداد لوٹے اور فلم سازی میں تعلیم مکمل کی۔ یہاں انھوں نے دو فلموں کے اسکرین پلے لکھے، جن میں سے ایک کے وہ ڈائرکٹر بھی تھے۔ ان فلموں کو اکیڈمی فیسٹول میں بہترین کام کے اعزاز سے نوازا گیا۔ کئی بار گرفتار ہوئے جس کے بعد 1998 میں ان کے اساتذہ نے مشورہ دیا کہ وہ بغداد سے چلے جائیں کیونکہ اپنے سیاسی اور تنقیدی نقطہ نظر کے سبب ان کی فلمیں اکیڈمی میں موجود صدام حسین کے مخبروں کی توجہ کا باعث بن رہی ہیں۔ حسن بلاسم بغداد چھوڑ کر سلیمانیہ چلے گئے جو عراقی کردستان میں ہے۔ وہاں ایک فلم بناتے وقت پھر سے مصیبتوں کا شکار ہوئے اور انھیں وہاں سے بھی فرار ہونا پڑا۔ کئی برس تک جلاوطن رہ کر وہ غیرقانونی طور پر ملکوں ملکوں سفر کرتے پھرے۔ ایران، ترکی، بلغاریہ اور ہنگری ہوتے ہوئے وہ بالآخر 2004 میں فن لینڈ پہنچے، جہاں وہ اب رہتے ہیں۔
یہ کہانیاں جنگ سے متاثر عراقی ذہن اور نفسیات کا نہایت گہرا اور متنوع مطالعہ پیش کرتی ہیں۔ ایک کہانی میں ردی کے حوالے سے ایک کردار بتاتا ہے کہ حقیقت بھی ایک آئینہ تھی جوخدا کے ہاتھ سے گر کر کرچی کرچی ہوگیا۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں ایک ننھی کرچی ہے اور وہ سجھتا ہے کہ یہی کامل حقیقت ہے ۔ حسن بلاسم ہی مانتے ہیں کہ ادب کا ہر نمونہ رومی کے اس آئینے کی ایک کرچی ہے ؛ کامل صداقت جیسی کوئی شے نہیں ہوتی ۔

ISBN 978-969-648-032-7