ماری کلیر کی مہک
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
زیر نظر ناول کا اصل عربی عنوان روائح ماری کلیر اور اس کے انگریزی ترجمے کا عنوان The Scents of Marie-Claire ہے۔ ان دونوں عنوانات میں خوشبو یا مہک کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اردو عنوان ماری کلیر کی مہک میں اردو محاورے کی اس خصوصیت سے کام لیا گیا ہے کہ یہاں متعدد کے معنی میں واحد کا صیغہ استعمال کیا جانا ممکن اور روا ہے۔ ناول کو پڑھتے ہوئے یہ نکتہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے، اس لیے کہ حساس اور پیچیدہ بیانیے والے اس ناول میں مرد اور عورت کے جسمانی اور جذباتی رشتے کی رنگارنگی کا بنیادی استعارہ برتا گیا ہے، اور یہ استعارہ ، جیسا کہ کامیاب جدید فکشن میں بارہا دیکھنے میں آیا ہے، اس سے وسیع تر وقوعے کا تخلیقی بیان بن جاتا ہے۔ اسے ہم اپنی اصطلاح میں ‘قدیم’ اور ‘جدید’ یا ‘مشرق’ اور ‘مغرب’ کے تہذیبی ملاپ / ٹکراؤ کا ایک گہرا، پُر معنی مطالعہ سمجھ سکتے ہیں، اگرچہ اس امر کونوٹ کرنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ اس ناول کے مصنف حبیب سالمی کا اصل وطن تیونس جس جغرافیائی خطے میں شامل ہے، یعنی شمال مغربی افریقہ، وہاں کے رہنے والے اس خطے کو “المغرب” کا نام دیتے ہیں۔ تاہم، ناول میں جن روایتی تہذیبی خصوصیات، مثلاً مردانگی ، عشق ، غیرت، رکھ رکھاؤ، حیا، ناپاکی وغیرہ، کو پیرس میں مقیم ایک مہاجر عرب کے کردار کے تجربات کے ذریعے مقامی جدیدتہذیب سے ملتے، الجھتے اور ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ان خصوصیات اور ان سے جنم لینے والی کشمکش کو ہم اپنے ماضی اور حال میں بھی پہچان سکتے ہیں۔
ISBN: 978-969-648-042-6



تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔