نئی زبان کے حروف
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 1,125 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 1,005 |
| 10 + | 40% | ₨ 900 |
عسکری صاحب ( مرحوم) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ادب ایک مسلسل تجربہ ہے۔ کوئی قانون تعزیرات نہیں ہے جو ہر بات میں ناطق فیصلے صادر کیے جائیں۔ یہاں تو ایک مستقل تفتیش ہی سب کچھ ہے ۔ اس مختصر سی عبارت میں لفظ ” تفتیش” بہت اہم ہے اور تنویر انجم کی نظمیں ایسے ادب کی ایک مثال ہیں۔
میرے سامنے اس وقت تنویر کے سات مجموعوں کا انتخاب ہے۔ تنویر نثری نظم لکھتی ہیں ۔ ہمارے یہاں نثری نظم کافی عرصے سے لکھی جارہی ہے۔ اب تو اس کے اوپر جدیدیت کا تمغہ بھی نہیں سجتا۔ نثری نظم کے بارے میں ایک عام خیال یہ ہے کہ اس صنف سخن میں آسانیاں بہت ہیں۔ میری ناچیز رائے میں ایسا نہیں ہے۔ ادب میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ بہت پرانا ہے لیکن اگر اس ٹوٹ پھوٹ کو صرف بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھ لیا جائے تو بہت نقصان اس صنف ادب کا ہوتا ہے جس میں طبع آزمائی کی جائے۔ یہی کچھ بہت عرصے تک نثری نظم کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔
رفتہ رفتہ نثری نظم کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے ۔ شاعروں نے اپنے اپنے انداز سے اس کی بناوٹ اور تراش خراش میں محنت سے کام لیا۔ تنویر کو یہ کام آتا ہے۔ سچ پوچھیے تو بنیادی بات تو یہ ہے کہ شاعر کے پاس کہنے کو کچھ ہے کہ نہیں ۔ پھر صنف سخن تو بعد کا انتخاب ہے اور تنویر کی نظموں کے موضوعات بتاتے ہیں کہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ مجھے تنویر کی نظموں میں کہیں کہیں کلاسیکی کہانیوں کی خوشبو آتی ہے اور کہیں حالات حاضرہ کی گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ دکھ سکھ کے رنگوں میں ڈوبی ہوئی تنویر کی نظمیں ایک تاثر چھوڑ جاتی ہیں اور یہ تاثر یقین دلاتا ہے کہ شاعرہ کے پاس ایک دردمند دل ہے۔
ISBN: 978-969-648-041-9


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔