نردباں اور دوسری کہانیاں
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
تصنیف حیدر ایک ذہین، پُر اعتماد اور بے باک لکھنے والے ہیں۔ شاعری مضمون نگاری کے ساتھ ساتھ ایک عدد ناول لکھ کر وہ بطور ادیب خود کو منوا چکے ہیں۔ *نردباں اور دوسری کہانیاں* ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ کہانیوں کو پڑھ کر لگتا ہے ، مصنف کی کہانی کہنے کی حس بیدار ہے۔ مجموعے کی آٹھوں کہانیاں پکے ہوے پھل ہیں ۔ یہ پھل نرے میلے ہی نہیں ، کڑوے اور کسیلے بھی ہیں۔ چکھنا شرط ہے۔ پہلی کہانی سب سے زیادہ کڑوی ہے۔ یہ سیاسی طنز ہے۔ اسے سیاہ طربیہ (Black Comedy) بھی کہا جا سکتا ہے۔ نامی بادشاہ کا محل ، جو کبھی دہشت و جبر کی علامت تھا، اب سر بسر خرابہ ہے۔ لیکن انسانوں پر موت مسلط کرنے کا کھیل ، جس کے ظل الہی اور اس کے سائے میں پلنے والے رسیا تھے، یاد کا بھوت بن کر اب بھی مہرولی کے ان کھنڈرات میں ناچتا ہے۔ کہانی کے اختتام میں آج کے حکمراں طبقے کی رنگ بازیوں کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے ۔ ” کلرک کا افسانہ محبت” شادی کے بندھن پر طنز ہے۔ ایک کنوارا کلرک ، عورت کی صحبت کی شدید خواہش کے باوجود، شادی سے فرار چاہتا ہے۔ اپنی کوشش میں وہ بظاہر کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر سماج کی لعن طعن سے نہیں بچ پاتا۔ کہانی میں مرکزی کردار کی خود کلامی سے بننے والی فضا پُراثر ہے۔ مجموعے کی ساری کہانیاں موڈ ، احساس امنگ ، شرم ، خوف اور تذبذب سے بھری کیفیات کو چھوٹے بڑے واقعات میں ڈھال کر بنی گئی ہیں۔ کہانی پن ہر کہیں موجود ہے۔ المیہ اور Dark Humour کے ہوتے ہوے بھی ، افسانوی بیان پرلطف ہے۔ صرف “آسیب زدہ رات کا قصہ” میں ایڈ گرایلن پووالی گھمبیرتا در آئی ہے۔ بیان اگرچہ یہاں بھی گوارا ہے۔ تصنیف حیدر اپنے ناول اور مضامین میں سماجی ٹیووز پر ضربیں لگاتے آئے ہیں۔ ان کہانیوں میں بھی ، ہلکے یا گہرے طور سے سماجی برائیوں پر ضربیں لگائی گئی ہیں ۔ ان ضربوں کا مقصد انسان کی اجتماعی کمزوریوں میں کچی انسانیت کی تلاش کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے!
قارئین ! اگر آپ افسانوی ادب پڑھنے کے زیادہ شوقین نہیں ہیں تب بھی اس کتاب کو، کہانیوں کے عنوانات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوے، ایک تسلسل سے پڑھتے چلے جائیے ۔ یہ کتاب قدیم اور جدید دلی کے باسیوں کی سیاسی، سماجی اور نفسیاتی زندگیوں کا حظ آور مطالعہ ثابت ہوگی ۔
ISBN 978-969-648-099-0


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔