نیا ورق 59
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 450 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 402 |
| 10 + | 40% | ₨ 360 |
“ترجمے کو تیسرے درجے کی چیز تکھنے کا یہ ذہنی رویہ اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ اچھے تخلیق کار اس فن کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ فی زمانہ ادب کے افادی پہلوؤں اور اس کی ترویج واشاعت کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے لوگوں کے لیے اپنی شہرت طلبی کے جذبے کو تسکین پہنچاتے رہناز یادہ اہم ہوگیا ہے ۔” یعقوب خاور
“ایک بات طے ہے کہ جب آپ کسی چیز کا ترجمہ کر رہے ہیں تو آپ پڑھنے والے سے وعدہ کر رہے ہیں کہ جو فلاں شخص ہے، اس کی بات میں آپ تک پہنچاؤں گا۔ اگر آپ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں تو آپ کو اس کی بات سمجھنی پڑے گی اور اس کو اسی طرح پہنچانا پڑے گا۔” اجمل کمال
“ترجمہ قلم کی مزدوری ہے۔ مزدور اپنا کام نہیں چنتا، کام مزدور کو چلتا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مزدور نے کام کو انجام دینے میں کتنی ہنر مندی سے کام لیا لیکن اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ اس میں ہنر ہے بھی کہ نہیں علمی اور ادبی تصنیفات کے تراجم آپ کی ہنر مندی اور فہم دونوں کا بڑا امتحان لیتے ہیں ۔” خورشید اکرم
“ترجمہ نگارکو انھی کتابوں کو ہاتھ لگانا چاہیے جو اپنی موضوعی، تہذیبی اور معنیاتی تہہ داری کے ساتھ پوری طرح سمجھ میں آتی ہوں اور انھوں نے ہمیں کسی بھی پہلو سے متاثر بھی کیا ہو ۔” ارجمند آرا
“طبع زاد تحریر میں لکھنے والا ادیب یا شاعر بھی مترجم ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے خیالات و تاثرات کا ترجمہ کرتا ہے ۔” فاروق خالد
“ترجمہ نگاری میرا شوق ہے پیشہ نہیں اور شوق چنا نہیں جاتا ہوجاتا ہے ۔” شوکت نیازی
“ترجمہ نگاری کا مقام تخلیق سے تو نیچے ہے مگر تنقید سے بہرحال اوپر ہے۔ کیوں کہ تنقیدکسی تخلیق کے حسن و قبح پر بات کرتی ہے اور ترجمے کے ذریعے ہمیں کسی اور زبان کی تخلیق کانمونہ خود اپنی زبان میں پڑھنے کا موقع ملتا ہے ۔” سید کاشف رضا


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔