cpkarachi2020@gmail.com
03003451649

نصف صدی کا قصہ

 2,400
خصوصی رعایت
تعداد رعایت رعایتی قیمت
3 - 4 25%  1,800
5 - 9 33%  1,608
10 + 40%  1,440
اردو کتابیں سید محمد اشرف
مصنف: سید محمد اشرف
صفحات: 592

سید محمد اشرف کی پیدائش ہائی اسکول سرٹفکٹ کے اعتبار سے 8 / جولائی 1957ء میں اتر پردیش کے شہر سیتاپور میں ہوئی جو ان کا ننھیال ہے۔ ان کا وطن مالوف صوفیا، اور ادباء کی مشہور بستی مارہرہ شریف ہے جو اتر پردیش کے ضلع اینہ میں واقع ہے۔ ان کے والد ماجد کا نام سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں قادری اور والدہ محترمہ کا نام سید محبوب فاطمہ نقوی ہے ۔ سیدہ نشاط اشرف ان کی اہلیہ ہیں اور سید نیل اشرف، سیدہ شفا اشرف اور سید ناظم اشرف ان کی اولادوں کے نام ہیں۔

سید محمد اشرف کی ابتدائی تعلیم مارہرہ شریف کی درگاہ برکاتیہ کے مکتب اور اسکول میں ہوئی ۔ اس کے بعد وہ اعلٰی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آگئے جہاں سے اُنھوں نے بی ۔ اے (آنرس) اور ایم اے میں فرسٹ ڈویژن سے کامیابی حاصل کی اور دونوں جماعتوں میں گولڈ میڈل تفویض ہوئے ۔ وہ دوران طالب علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف رسالوں کے مدیر اور کئی ادبی و ثقافتی انجمنوں کے سکریٹری بھی رہے۔

1999ء میں انہوں نے علی گڑھ میں البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کی جس میں طلباء و طالبات کے لیے سینئر سیکنڈری اسکول کے علاوہ مینجمنٹ، کمپیوٹر اور بی ـ ایڈ اور مختلف پروفیشنل کورسز کے ادارے ہیں ۔ 1992ء میں انہوں نے کان پور میں “سرسید پبلک اسکول” اور 2002ء میں مارہرہ شریف میں مارہرہ پبلک اسکول قائم کیے۔

سید محمد اشرف نے 1981ء میں انڈین سول سروں کے تحت اپنا کیرئیر انڈین ریوینیو سروس میں بطور اسٹنٹ کمشنر آف انکم ٹیکس شروع کیا اور آگرہ، علی گڑھ، کان پور، ممبئی، دہلی اور کولکاتہ میں مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 2016ء میں بحیثیت اور چیف کمشنر انکم ٹیکس 2019ء میں انکم ٹیکس سیٹلمنٹ کمیشن کے وائس چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ فی الوقت وہ علی گڑھ میں البرکات کے مختلف اداروں کا انتظام دیکھنے کے ساتھ ساتھ شعبہ اُردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر بھی ہیں۔ سید محمد اشرف کا ادبی سفر 1973ء میں “چکر ” نام کے افسانے سے شروع ہوا۔ کتابی شکل میں ان کا پہلا مجموعہ ” ڈار سے پچھڑے” 1993ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد ان کا ناول “نمبر دار کا نیلا” 1997ء میں شائع ہوا۔ 2000ء میں اُن کے افسانوں کا مجموعہ *باد صبا کا انتظار* شائع ہوا جس پر 2003 کا مرکزی ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔ اس سے قبل 1995ء میں انھیں بہترین کہانی کے لیے “کتھا ایوارڈ” ملا تھا۔ 2011ء میں انھیں اتر پردیش اردو اکادمی کی طرف سے “لائف ٹائم اچیومنٹ” اعزاز ملا 2017ء میں مدھیہ پردیش حکومت نے “اقبال سمان” کے ذریعے ان کا اعتراف کیا۔ شعاع فاطمہ ایجویشنل ٹرسٹ لکھنو سے “شمیم نکہت ایوارڈ” ملا۔ 2018ء میں انھیں “عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ” ملا جواردو کا عالمی ایوارڈ مانا جاتا ہے۔2016ء میں اُن کا ناول ” آخری سواریاں” شائع ہو کر خاص و عام میں بے حد مقبول ہوا۔ ہندو پاک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے فن اور شخصیت پر ایم-فل اور پی ایچ۔ڈی کے مقالے تحریر کیے گئے ۔ 2018ء میں نیشنل بک ٹرسٹ نے ان کے نمائندہ افسانوں کا انتخاب شائع کیا۔سید محمد اشرف نے اپنے فکشن کے ذریعے بیانیہ کے ایک نئے اسلوب کی طرح ڈالی ۔ ان کی نثر جیسی پر تاثیر، مرموز اور روشن نثر لکھنے والے خال خال ہی ہیں ۔ اُن کی کہانیوں کے موضوعات بے حد متنوع ہیں جن کا تعلق انسانی بستیوں ، حیوانی مخلوقات اور ماحولیات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ افسانے کی جمالیات کے عارف اور پارکھ ہیں۔ اُن کے افسانے تہذیب، عہد، ماحول، جنگل، جغرافیہ، احساس،حسن،محبت، شرافت اور انسانی دردمندی کے زندہ استعارے ہیں۔

سید محمد اشرف کی تخلیقات کا ترجمہ ہندوستان اور بیرون ممالک کی دوسری کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اردو فکشن کی اس قدآور پر ہم جس قدر فخر کریں کم ہے۔

کیں جرس از کاروان دیگرست

ISBN: 978-969-648-085-3