cpkarachi2020@gmail.com
03003451649

شہزادہ احتجاب

 950
خصوصی رعایت
تعداد رعایت رعایتی قیمت
3 - 4 25%  713
5 - 9 33%  637
10 + 40%  570
اردو کتابیں ھوشنگ گلشیری
مصنف: ھوشنگ گلشیری
مترجم: اجمل کمال
صفحات: 101

ممتاز ایرانی ادیب ہوشنگ گلشیری کے مختصر ناول “شہزادہ احتجاب” کو 1979 میں شائع ہونے کے بعد جلد ہی ایک شاہکار کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ ناول کے انگریزی مترجم کے لفظوں میں، “اس ناول نے ثابت کیا کہ ایرانی لکھنے والوں نے نہ صرف یوروپ اور امریکہ کے جدید فکشن کی تکنیکیں سیکھ لی ہیں بلکہ ان میں چند اپنی اختراعات کا بھی اضافہ کیا ہے۔ ایرانی تاریخ کے جسیم موضوع کو ایک حسرت آمیز اور غیر دلکش گھریلو ڈرامے کی صورت میں پیش کرنے والے ہوشنگ گلشیری کو اپنے تجربے میں کامیاب ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچا تھا، پھر بھی وہ کامیاب ہوا۔”
اس ناول میں شہزادہ احتجاب کا فرضی کردار جس شاہی خاندان کے آخری افراد میں سے ایک ہے وہ ایران کا قاجار خاندان ہے جس نے اٹھارہویں صدی کی قبائلی لڑائیوں سے ابھر کر 1785 میں تخت طاؤس پر قبضہ کیا۔ اس خاندان کی حکمرانی 1925 تک قائم رہی جب اس کی فوج کے ایک قازق نژاد افسر رضا خان نے ، برطانیہ کی شہ پر، آخری قاجار شاہ کو معزول کردیا۔ نئے شاہی خاندان نے قدیم فارسی نام “پہلوی” اختیار کیا اور 1979 کے مذہبی انقلاب کے ہاتھوں معزول ہوا جب شیعہ مذہبی پیشواؤں نے ، جن کے طبقے کو پروان چڑھانے میں قاجار اور پہلوی شاہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، شاہی کے ادارے کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
ایران کی تاریخ کے واقعات اس ناول میں پس منظر کی دھندلی پرچھائیوں کے طور پر موجود ہیں۔ یہ پر چھائیاں شہزادہ احتجاب کے نیم تاریک کمرے کے کونوں میں بھٹکتے سایوں اور اس کے الجھے ہوے ذہن سے گزرتے ہوئے مبہم تاثرات کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ ایرانی تاریخ کی ڈیڑھ صدیوں کو ایک خستہ حال صوبائی قصبے میں پیش آنے والے اس منظر میں سمیٹ دیا گیا ہے جہاں ایک عمر رسیدہ شخص اپنی گھریلو خادمہ کو پیٹ رہا ہے۔ اس سے پہلے کسی لکھنے والے نے ایران کے روایتی معاشرے کے سوز و درد کو اتنی خوبی سے گرفت میں نہیں لیا تھا۔

ISBN 978-969-8379-89-6