شہر ملال
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 2,100 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 1,876 |
| 10 + | 40% | ₨ 1,680 |
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عرفان صدیقی کے بارے میں لکھنا بہت مشکل کام تھا اور اب بھی مشکل ہے۔ ان کے اشعار کی تہہ داری، ان کی لفظیات کا داستانی لیکن داخلی رنگ، ان کے تجربہ عشق اور تجربہ حیات کا دبدبہ اور طنطنہ یہ ایسی باتیں نہیں جن پر الفاظی اور انشاء پردازی اور زور بیان کے ذریعہ قابو پایا جا سکے۔ ان کا کلام ایک طرف تو کیفیت اور تحیر پیدا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ بلکہ کبھی کبھی تو اس کے پہلے تفکر کی طرف مائل کرتا معلوم ہوتا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی
عرفان صاحب کی غزل کو جو بے مثال قبولیت اور شہرت ملی، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو شاعری کی دوسری صنفوں کے برعکس، غزل کی صنف انسانی صورت حال اور زمان و مکان کے تمام تر تغیرات کی پرچھائیاں سمیٹنے کے بعد بھی اپنے ورثے سے کبھی دست بردار نہ ہوگی ۔ نئی غزل کا ایک قدم اپنی روایت کے سمٹتے پھیلتے دائرے میں بھی نہایت مضبوطی سے جما رہے گا۔ عرفان صاحب کی غزل میں حال اور مستقبل کے ادراک کے علاوہ اپنے ماضی کا احساس ایک دائمی قدر کے طور پر موجود ہے۔ چنانچہ ان کا قائم کردہ اسلوب اور ان کا مخصوص رنگ و آہنگ ہماری ادبی تاریخ کے آئندہ موسموں میں بھی اپنی بہار کے ساتھ زندہ اور روشن رہے گا۔
پروفیسر شمیم حنفی
ISBN 978-969-648-097-6


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔