شمال کی جانب ہجرت کا موسم
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 938 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 838 |
| 10 + | 40% | ₨ 750 |
معروف سودانی ادیب طیب صالح کو عربی جدید ناول کے میدان میں ایک جینئیس تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ 1929 میں سودان کے شمالی صوبے میں دریائے نیل کے کنارے ایک گاؤں میں چھوٹے کسانوں اور مذہبی استادوں کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ خرطوم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کے لیے یونیورسٹی آف لندن کا رخ کیا۔ لندن آنے سے پہلے انھوں نے کچھ عرصہ اسکول میں پڑھایا لیکن اس کے بعد ان کی تمام تر عملی زندگی ایک براڈ کاسٹر کے طور پر بسر ہوئی۔ پہلے وہ بی بی سی کی عربی سروس سے وابستہ رہے اور بعد میں قطر کی وزارت اطلاعات کے ڈائرکٹر جنرل بن گئے ۔ لندن میں قیام کے دوران انھوں نے وہاں سے نکلنے والے ایک عربی جریدے المجلہ کے لیے دس برس تک ہفتہ وار کالم لکھا جوادبی موضوعات پر ہوتا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال طیب صالح نے یونیسکو سے وابستہ رہ کر پیرس میں گزارے۔ انھوں نے 2009 میں اسی برس کی عمر میں لندن میں انتقال کیا۔
طیب صالح کی تحریریں سودانی دیہات کی اجتماعی زندگی کے تجربات پر مبنی ہیں اور وہاں کے باشندوں کی عمیق نفسیات اور ان کے پیچیدہ و باہمی رشتوں کا حال سناتی ہیں۔ ان کی ایک کہانی قبرصی آج کے عربی کہانیوں کے خصوصی شمارے (13) میں شامل تھی اور ایک ناولا ” زین کی شادی” شمارہ 30 میں۔
طيب صالح کے جس شاہکار ناول موسم الہجرة الى الشمال کا ترجمہ آپ کے سامنے ہے، وہ عربی میں 1966 میں شائع ہوا تھا۔ اس کا انگریزی ترجمہ ڈینس جانسن ڈیویز (Danys Johnson-Davies) نے کیا جو Season of Migration to the North کے عنوان سے 1969 میں شائع ہوا۔ اردو ترجمہ ارجمند آرا نے کیا ہے جو اس سے پہلے آج کے لیے بہت کی اہم تحریروں کا ترجمہ کرچکی ہیں۔ یہ ترجمہ ڈیویز کے انگریزی ترجمے پر بنیاد رکھتا ہے لیکن اس کے لیے ناول کے اصل عربی متن کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔
978-969-648-029-7


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔