اردو کا ابتدائی زمانہ
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 1,350 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 1,206 |
| 10 + | 40% | ₨ 1,080 |
یہ کتاب اردو زبان اور ادب کے ابتدائی زمانے کے بعض اہم پہلوؤں سے بحث کرتی ہے جن کا تعلق لسانی اور ادبی تاریخ اور تہذیب سے ہے۔ زبان کے نام کی حیثیت سے لفظ ‘اردو’ نسبتا نو عمر ہے ؛ جس زبان کو آج ہم اردو کہتے ہیں، پرانے زمانے میں اسی زبان کو ‘ہندوی’ ، ‘ہندی’ ، ‘دہلوی’ ، ‘گجری’ ، ‘دکنی’ ، اور پھر ریختہ کہا جاتا رہا ہے۔ اس لیے بات جدید ہندی کے آغاز کی مخفی ( اور ظاہر ) سیاست اور اردو ادبی تہذیب پر اس کے اثر سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ سوال زیر بحث آیا ہے کہ اردو زبان اگر چہ دہلی کے آس پاس پیدا ہوئی لیکن اس میں ادب کی پیداوار اول اول گجرات اور دکن میں کیوں ہوئی ۔ کتاب میں جن دیگر معاملات پر اظہار خیال کیا گیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں : گجرات اور دکن میں نظری تنقید اور شعریات کا طلوع ، اس سلسلے میں امیر خسرو اور سنسکرت کا مرکزی کردار ، دہلی کا ادبی منظر نامے پردیر میں ورود لیکن دہلی کے ادبی سامراجی مزاج کے باعث غیر دہلی کے ادبیوں اور باہر والوں کا اردو کی فہرست استناد (Canon) سے اخراج، اٹھارویں صدی کی دہلی میں نئی ادبی تہذیب اور شعریات کا آغاز ، ‘اصلاح زبان’ کی ‘مہم’ ، اور ایہام کی ‘تحریک’ کی حقیقت ، اور دہلی ہی میں استادی/شاگردی کے ادارے کا قیام، وغیرہ۔ اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نئی دہلی سے شائع ہوا ہے ۔
ISBN 978-969-648-108-9


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔