بندھن
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 450 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 402 |
| 10 + | 40% | ₨ 360 |
مولانا بخش محمد شہی کا ناول بندھن کسی بلوچ لکھاری کا اردو میں پہلا باقاعدہ اور مکمل ناول ہے۔ اپنی پہلی اشاعت کے باوجود یہ ناول اور اس کا مصنف دونوں اب تک گمنام رہے ہیں۔
یہ ناول قیام پاکستان کے فورا بعد کے زمانے میں لکھا گیا تھا۔ سو، یہ اسی زمان و مکان سے متعلق ہے۔ اس میں ہجرت کا قصہ بھی ہے، قیام پاکستان کا حال بھی ، اور کوئٹہ کی سماجی زندگی کا عکس بھی۔ یہ پہلا ناول ہے جس میں کوئٹہ اور اس کے قریبی مضافاتی علاقوں کا تذکرہ ہے، مقامی کردار ہیں، کوئٹہ شہر کے مختلف بازاروں ، معدوم ہوچکی جگہوں اور ہوٹلوں کا بیان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کسی حد تک مقامی رہن سہن اور رسم و رواج بھی ہے۔ اس میں کوئٹہ کے مخصوص اردو لہجے کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔
اس طرح یہ ناول کوئٹہ کے بعض معاصر کہانی کاروں کے اس دعوے کی تکذیب کرتا ہے کہ انہوں نے کوئٹہ کی اردو کو پہلی بار اپنے فکشن میں برتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان کے اردو ادب میں شہر بیتی اور مقامی لہجے کے اظہار کا قرینہ پرانا ہے، یہ آج کی بات نہیں۔
بندھن اپنی اولین اشاعت کے قریبا ستر سال بعد اب منظر عام پر آیا ہے۔ اس بات سے اس ناول کی تاریخی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔(اداره)


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔