بوف کور
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
شہر رے کے نواح میں ایک خستہ و درماندہ شخص اپنی زندگی اور تخلیق کے کابوس کو کاغذ پر منتقل کررہا ہے تا کہ خود کو پہچان پانے سے پہلے مر نہ جائے۔ اپنی تلاش کا یہ آسیب اُسے خود کو دہراتی ہوئی ایک تاریک اور مہیب دنیا میں لے جاتا ہے جہاں وجود انسانی کے ناقابل علاج زخم تازہ ہیں۔ ڈراؤنے خوابوں کی یہ دنیا ایڈگر ایلین پوکی دنیا سے مماثل ہے اور اس کی تعبیر وجودیت کے فلسفے کی مدد سے بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ اہم ناول، جو اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک زندہ دستاویز اور فنی معیار کے لحاظ سے ایک مکمل شہ پارہ ہے، جدید فارسی ادب کو ادب عالیہ کے بڑے دھارے سے جوڑ دیتا ہے۔
اس ناول کے مصنف صادق ہدایت کو متفقہ طور پر فارسی فکشن کا پہلا بڑا نام سمجھا جاتا ہے۔ ہدایت 1903ء میں تہران میں پیدا ہوا اور 1930ء میں اس کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ ہدایت کی دوسری تصانیف میں تاریخی ڈرامے، طنزیہ خاکے (“قضیے”)، تنقیدی مقالے اور مغربی زبانوں کے فکشن کے ترجمے شامل ہیں۔ اپنے زمانے کی مذہبی رسومیات پر اس کی شدید طنز آمیز تحریر “توپ مرواری” اس کی زندگی میں شائع نہ ہوسکی۔ تاہم “بوف کور” کو ہدایت کا اہم ترین ادبی کارنامہ خیال کیا جاتا ہے۔ زندگی سے بیزاری، موت کی کشش اور خودکشی کا میلان ہدایت کی گنجلک شخصیت کی نمایاں خصوصیات تھیں ۔ اس تاریک طرز احساس کی وجہیں اس کے ذاتی احوال میں بھی تلاش کی گئی ہیں اور اپنے وقت کے ایرانی معاشرے سے اس کی عدم مناسبت میں بھی۔ وہ رفتہ رفتہ ایران میں جینے مرنے سے بالکل بیزار ہو کر 1950ء میں فرانس چلا گیا اور اپریل 1951ء میں پیرس میں گیس سے دم گھونٹ کر خودکشی کرلی۔
اس اردو ترجمے کے لیے ناول کے اصل فارسی متن کے علاوہ ڈی پی کاستیلو کے کیے ہوئے انگریزی ترجمے The Blind Owl کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔
ISBN 969-8379-01-0


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔