تین بتی کے راما
| تعداد | رعایت | رعایتی قیمت |
| 3 - 4 | 25% | ₨ 713 |
| 5 - 9 | 33% | ₨ 637 |
| 10 + | 40% | ₨ 570 |
علی امام نقوی کا *تین بتی کے راما* کئی لحاظ سے پُر کشش ناول ہے: اس کے کرداروں میں کشش ہے ـ واقعات میں کشش ہے ـ ماحول میں ـ مکالموں میں ـ پلاٹ اور بیان میں بھی ـ جائے وقوع ( بمبئی کا علاقہ تین بتی ) بھی اس کی کشش ہے ۔ وہ ظاہری سرد مہری اور بہ ظاہر معروضی رویہ بھی اس کی کشش ہیں جو دراصل گہری فنکارانہ وابستگی سے جنمے ہیں۔
اپنے غیر مشروط وجود کو پوری طرح فن پارے کے سپرد کرنے والے قاری پر دھیرے دھیرے کھلتا ہے کہ ناول کے کردار اپنے اپنے خوابوں کے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ وہ اس گردش میں کبھی ایک دوسرے سے قریب آتے ہیں، کبھی دور جاتے ہیں۔ قربتوں میں ڈھلتے فاصلوں اور فاصلوں میں بدلتی قربتوں کے درمیان ، ان کے خوابوں کے رنگ ، روشن اور چمک دار بھی ہوجاتے ہیں اور مٹ میلے بھی۔ جو رنگ اول اول حسین ہیں وہ جائے وقوع کی آلودگیوں سے ماند پڑتے ہیں، جو ماند ہی تھے وہ بھدے ہوئے جاتے ہیں اور بھدے رنگ اُن حدوں کو چھوا چاہتے ہیں جن کے تصور ہی سے پُر گداز ناظر میں کراہت و خوف کی سنسناہٹ دوڑ جاتی ہے اور کچھ خوابوں کے رنگ اُس جامد شکل کو پہنچ چکے ہیں جو مزید اثر قبول کرنے سے بھی لگ بھگ عاری ہیں۔
علی امام نقوی کی اسی بصیرت خیز فنکاری ( جو کہیں کہیں مزید نفاست و تہذیب کی طلب گار ہے ) کے باعث ، ناول کے کردار، واقعات، ماحول، مکالمہ، پلاٹ، بیان اور جائے وقوع ، باہم آمیز ہو کر ایک ایسے اسکیچ کی طرح ابھرے ہیں جو نہایت بولڈ لائنز کا واحدہ ہے مگر پورٹریٹ جیسا تاثر دیتا ہے۔ اس کے گہرے سیاہ خطوط ، پہلی نظر میں ( شاید مصنف کے حسب منشا) کراہت و خوف پیدا کرتے ہیں لیکن بصارت پر شدید گرفت کے ذریعے اسے دوسری ، تیسری بار بھی اپنی جانب لاتے ہیں ۔ تب ناظر سمجھتا ہے کہ بنانے والے نے اسے کیوں اتنے گہرے سیاہ خطوط سے بنایا ۔ اور کیوں گہری سیاہ لکیروں کے آس پاس دمکتی سفیدی بھی بار بار اس کی نظر کو گرفت میں لے رہی ہے ۔ وہ اپنی مکمل نظر کے ساتھ اُس نقطے پر گردش کرنے لگا ہے جو اس خاکہ نما پورٹریٹ یعنی آدمی اور زندگی کا مرکز ہے ۔ اور یہ نقطہ اک سیاہ و سفیدی بے چینی میں مبتلا کر رہا ہے۔ اور یہ بے چینی کسی گہرے دکھ میں ڈھلا چاہتی ہے کیونکہ سب سالا گڑبڑ ہوگیا ہے ؛ موہن بھی۔
ISBN 978-969-648-107-2


تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں ہے۔